حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 220 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 220

حیات احمد ۲۲۰ جلد اول حصہ دوم اس سیرت کے پڑھنے والوں کو معلوم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک ہمشیرہ صاحبہ بی بی مراد بیگم صاحبہ تھیں جو بجائے خود ایک صاحب حال اور عابدہ زاہدہ خاتون تھیں۔خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت وہ عین عنفوان شباب میں بیوہ ہو گئیں اور قادیان آگئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح ان کی زندگی ایک خدا پرست خاتون کی زندگی تھی۔حضرت مائی صاحبہ کو جیسے حضرت مسیح موعود کے آرام و آسائش کا ہر طرح خیال ہوتا تھا اس خدا پرست خاتون کے لئے بھی وہ بہت دردمند اور محبت سے لبریز دل رکھتی تھیں اور ان کی بیوگی کے زمانہ میں اپنی ذمہ واری کی خصوصیات کو محسوس کرتی تھیں۔ان حالات میں انہوں نے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کو مشورہ دیا کہ زنان خانہ میں وہ ہمیشہ دن کو تشریف لایا کریں۔چنانچہ حضرت مرزا صاحب مرحوم کا اس کے بعد معمول ہو گیا کہ وہ صبح کو اندر جاتے اور گھر کے ضروری معاملات پر مشورہ اور ہدایات کے بعد باہر آ جاتے۔حضرت مائی صاحبہ نے اپنے اس بیٹے اور بیٹی کے لئے اپنے تمام آرام اور آسائشوں کو قربان کر دیا تھا اور ان کے دن رات ان دونوں عزیزوں کے آرام کے انتظام میں بسر ہوتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان پر بڑے بڑے رحم اور کرم کرے اور اپنے فضل سے انہیں اس مقام پر اٹھائے جو اس کی رضا کا مقام ہے۔آمین بہر حال حضرت اقدس نے ایسی شفیق اور مہربان ماں کی گود میں پرورش پائی تھی جو اپنی صفات عالیہ کے لحاظ سے خواتین اسلام میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔اس خاتون کی عزت و وقار کا کیا کہنا جس کے بطن مبارک سے وہ عظیم الشان انسان پیدا ہوا جو نبیوں کا موعود تھا اور جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سلام کہا اور خدا تعالیٰ نے جس کے مدارج اور مناقب میں فرمایا: أَنْتَ مِنِّى وَ أَنَا مِنْكَ اس عظیم الشان انسان کی ماں دنیا میں ایک ہی عورت ہے جو آمنہ خاتون کے بعد اپنے بخت رسا پر ناز کر سکتی ہے۔دنیا کی عورتوں میں جو ممتاز خواتین ہیں ان میں حضرت آمنہ خاتون اور حضرت چراغ بی بی صاحبہ ہی دو عورتیں ہیں جنہوں نے ایسے عظیم الشان انسان دنیا کو دیئے جو ایک