حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 219
حیات احمد ۲۱۹ جلد اول حصہ دوم حضرت مسیح موعود بر بِالْوَالِدَيْنِ مشہور ہی تھے۔والد صاحب قبلہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے آپ نے اپنے آپ کو انتظام زمینداری اور پیروی مقدمات تک میں لگانے سے عذر نہ کیا تو حضرت والدہ مکرمہ کی اطاعت اور فرمانبرداری تو آپ کی بے نظیر ہی تھی گھر والے بھی اس بات کو محسوس کرتے تھے کہ آپ کو حضرت والدہ مکرمہ سے بہت محبت ہے چنانچہ جب حضرت والدہ مکرمہ کا انتقال ہوا تو آپ قادیان سے باہر کسی جگہ تھے میراں بخش حجام کو آپ کے پاس بھیجا گیا اور اسے کہہ دیا گیا تھا کہ وہ یکدم حضرت والدہ مکرمہ کی وفات کی خبر حضرت مسیح موعود کو نہ سنائے۔چنانچہ جس وقت بٹالہ سے نکلے تو حضرت کو حضرت والدہ صاحبہ کی علالت کی خبر دی۔یکہ پر سوار ہو کر جب قادیان کی طرف آئے تو اس نے یکہ والے کو کہا کہ بہت جلد لے چلو۔حضرت نے پوچھا کہ اس قدر جلدی کیوں کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ ان کی طبیعت بہت ناساز تھی۔پھر تھوڑی دور چل کر اس نے یکہ والے کو اور تاکید کی کہ بہت ہی جلد لے چلو۔تب پھر پوچھا اس نے پھر کہا کہ ہاں طبیعت بہت ہی ناساز تھی کچھ نزع کی سی حالت تھی خدا جانے ہمارے جانے تک زندہ رہیں یا فوت ہو جائیں۔پھر حضرت خاموش ہو گئے۔آخر اُس نے پھر یکہ والے کو سخت تاکید شروع کی تو حضرت نے کہا کہ تم اصل واقعہ کیوں بیان نہیں کر دیتے کیا معاملہ ہے تب اُس نے کہا کہ اصل میں مائی صاحبہ فوت ہو گئی تھیں۔اس خیال سے کہ آپ کو صدمہ نہ ہو یک دفعہ خبر نہیں دی۔حضرت نے سن كر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون پڑھ دیا۔اور یہ خدا کی رضا میں محو اور مست قلب اس واقعہ پر ہر چند وہ ایک حادثہ عظیم تھا سکون اور تسلی سے بھرا رہا۔حضرت والدہ مکرمہ کی دور اندیشی معاملہ فہمی مشہور تھی۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کے لئے وہ ایک بہتریں مشیر اور غمگسار تھیں اور یہی وجہ تھی کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب با وجود اپنی ہیبت اور شوکت و جلال کے حضرت مائی صاحبہ کی باتوں کی بہت پروا کرتے تھے۔اور ان کی خلاف مرضی خانہ داری کے انتظامی معاملات میں کوئی بات نہیں کرتے تھے۔بات بظاہر نہایت معمولی سمجھی جاسکتی ہے مگر حضرت مائی صاحبہ کی فراست اور حیا پروری کی یہ ایک عدیم النظیر مثال ہے۔