حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 221 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 221

حیات احمد ۲۲۱ جلد اول حصہ دوم عالم کی نجات اور رستگاری کا موجب ہوئے۔ہاں یہ سچ ہے کہ ایک ان میں آقا تھا دوسرا غلام۔مگر وہ اپنے کمال اتباع وفتا میں اس مقام پر پہنچ گیا کہ آقا کے تمام صفات و اخلاق کو اس نے اپنے اندر لے لیا تب وہ اسی کی چادر پہن کر آیا اور اس کا کامل مظہر اور بروز ہو کر اُسی میں گم ہو گیا اور تفریق و امتیاز کے مقام سے گزر گیا۔پھر اس کا آنا اسی محسن و آقا کا آنا ٹھہرا۔صلی اللہ علیہ وسلم۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مادر شفیق کی تربیت میں بہت سی نیکیاں اور اعلیٰ عادات حاصل کیں۔ان دعاؤں کا تو ہمیں پتہ نہیں جو آپ اپنے والدین کے لئے کرتے ہوں گے مگر والدہ صاحبہ کی محبت کا ایک واقعہ اور جوش دعا کا ایک موقعہ میری اپنی نظر سے گزرا ہے۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود سیر کے لئے اس قبرستان کی طرف نکل گئے جو آپ کے خاندان کا پرانا قبرستان موسوم به شاہ عبداللہ غازی مشہور ہے راستہ سے ہٹ کر آپ ایک جوش کے ساتھ والدہ صاحبہ کی قبر پر آئے اور بہت دیر تک آپ نے اپنی جماعت کو لے کر جو اس وقت ساتھ تھی دعا کی۔اور کبھی حضرت مائی صاحبہ کا ذکر نہ کرتے کہ آپ چشم پر آب نہ ہو جاتے۔حضرت صاحب کا عام معمول اس طرف سیر کو جانے کا نہ تھا مگر اس روز خصوصیت سے آپ کا اُدھر جانا اور راستہ سے کترا کر قبرستان میں آکر دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا کسی اندرونی آسمانی تحریک کے بدوں نہیں ہوسکتا۔اسیری سے دست بردار ہو گئے دنیا کے گرفتارانِ شہرت کو ناموری کی ہمیشہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ حکام رس ہوں اور جس طرح ممکن ہو وہ سرکار دربار میں عزت و امتیاز حاصل کریں۔مگر ان کی طبیعت ایسی باتوں سے بے نیاز اور بے پروا تھی۔ایک مرتبہ وہ عدالت سیشن کے لئے اسیر منتخب ہوئے۔اگر حضرت مسیح موعود کی جگہ کوئی دوسرا آدمی ہوتا تو اس انتخاب پر بہت خوش ہوتا۔اور اپنی ترقیات کے لئے اس کو ایک زینہ قرار دیتا مگر حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق کیا کیا؟ صاف انکار کر