حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 218 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 218

حیات احمد ۲۱۸ جلد اول حصہ دوم استغناء شجاعت اور جرات، صاف گوئی کے صفات آپ کو والد ماجد کی طرف سے ملے تھے تو مہمان نوازی ، جود وسخا اور ہمدردی عامۃ الناس حضرت والدہ مکرمہ کی طرف سے عطا ہوئی تھیں، فطرتاً ہر بچہ کو اپنی ماں کے ساتھ اور ماں کو اولاد کے ساتھ محبت ہوتی ہے ماں کی مامتا مشہور ہے۔مگر حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ اپنے بیٹے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے لئے ایک سپر کا کام دیتی تھیں۔حضرت مرزا صاحب چونکہ دنیوی تعلقات سے گونہ الگ رہتے تھے اور ان میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے اس لئے دنیا داروں کی نظر میں ایک ہوشیار دنیا دار کی حیثیت سے وہ مشار الیہ نہیں ہو سکتے تھے۔آپ کا خاندان دنیوی حیثیت سے ایک نمایاں عزت و افتخار رکھ چکا تھا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں اپنی گزشتہ و رفته جا گیر و جائیداد کی باز یا گلی کے لئے کوشاں رہتے تھے اور حضرت مرزا صاحب کو ان امور سے کوئی دلچسپی نہ تھی اس لئے اس حیثیت سے وہ خاندان میں لائق اور قابل نہ سمجھے جاتے تھے بلکہ ملاں کہلاتے تھے۔ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی دلجوئی اور تسلی کے لئے حضرت والدہ مکرمہ کے قلب کو بہت وسیع کر دیا ہوا تھا جو وجود دنیا داروں کی نظر میں نعوذ باللہ محض نکتا سمجھا گیا تھا حضرت والدہ مکرمہ اس نیکی اور سعادت مندی کو دیکھ کر ان پر شار ہو جاتی تھیں اور آپ کی آسائش اور آرام کے لئے ہر طرح کوشش کرتی رہتی تھیں۔ان کی زندگی میں حضرت مسیح موعود کو کبھی ایسا موقعہ نہیں آیا کہ وہ گھر والوں کی بے پروائی کی وجہ سے تکلیف پائیں۔حضرت کی عادت تھی کہ اپنی ضروریات اور حاجات کو مخلوق کے سامنے پیش نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ صبر و برداشت سے کام لیتے۔اس لئے حضرت والدہ مکرمہ خاص احتیاط اور توجہ سے آپ کی ضروریات کا انصرام فرماتی تھیں اور حضرت اقدس کی ضروریات کا نہایت گہری نظر سے مطالعہ کرتی رہتیں اور ان کے کہنے کی نوبت نہیں آتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ حضرت اقدس اظہار نہیں کیا کرتے اس لئے پہلے سے انتظام رکھتی تھیں۔حضرت والدہ صاحبہ کی مہربانیوں اور محبت کا حضرت مسیح موعود کے دل پر ایک گہرا اثر اور نقش تھا۔والد صاحب کی گونہ بے اعتنائی کی تلافی مہر مادری نے کر رکھی تھی۔