حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 217
حیات احمد ۲۱۷ جلد اول حصہ دوم حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ کے نام میں، آنے والے دنیا کے نور کی بشارت مذکور تھی۔بہت سے نام دنیا میں رکھے جاتے ہیں مگر ان کو اپنے مسمی سے کچھ بھی نسبت اور تعلق نہیں ہوتا لیکن بعض اسماء ایسے مبارک اور باموقع ہوتے ہیں کہ ان میں وہی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو نام سے بظاہر مفہوم ہوتی ہے۔اسی طرح حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ ایک ایسے نور کی والدہ مکرمہ بننے کا شرف رکھتی ہیں جس نے دنیا کو روشن کر دیا۔حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ کا خاندان موضع آئمہ ضلع ہوشیار پور میں ایک معزز اور صحیح النسب مغل خاندان تھا۔آپ کی طبیعت میں جود وسخا اور مہمان نوازی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ایک عفت وعصمت کی دیوی خاتون میں جو صفات عالیہ ہونے چاہئیں وہ آپ میں موجود تھے۔وہ ہمیشہ بشاش اور متین حالت میں رہتی تھیں۔مہمان نوازی کے لئے ان کے دل میں نہایت جوش اور سینہ میں وسعت تھی۔وہ لوگ جنہوں نے ان کی فیاضیاں اور مہمان نوازیاں دیکھی ہیں ان میں سے بعض اس وقت تک زندہ ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اگر باہر سے یہ اطلاع ملتی کہ چار آدمیوں کے لئے کھانا مطلوب ہے تو اندر سے جب کھانا جاتا تو وہ آٹھ آدمیوں سے بھی زائد کے لئے بھیجا جاتا۔اور مہمانوں کے آنے سے انہیں بہت خوشی ہوتی۔اپنے شہر کے غرباء وضعفاء کا خصوصیت سے خیال رکھتی تھیں۔اور ان کے معمولات میں ایک یہ خاص بات تھی کہ غرباء کے مُردوں کو کفن ان کے ہاں سے ملتا تھا۔غرضیکہ غرباء کی ہمدردی اور دستگیری کی وجہ سے وہ سب کے لئے ایک طرح پر مادر مہربان تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تربیت میں حضرت والدہ مکرمہ کی ان صفات و اخلاق نے خاص اثر پیدا کیا اور چونکہ آپ ایک عظیم الشان کنبہ کے مالک ہونے والے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے ان صفاتِ عالیہ کے پیدا کرنے کے لئے ان کے واسطے یہ سامان کیا کہ ایک ایسی مادر شفیق کی گود میں انہیں رکھا جو ہمدردی عامۃ الناس اور مہمان نوازی اور جود وسخا میں اپنی نظیر آپ تھیں اس طرح پر گویا آپ نے ان صفات کو شیر مادر کے ساتھ پیا۔