حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 216 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 216

حیات احمد ۲۱۶ جلد اول حصہ دوم ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود ایک دالان میں ٹہل رہے تھے اس دالان میں ایک اوکھلی تھی۔مرزا سلطان احمد صاحب چھوٹے بچے تھے کوئی تین ایک برس کے ہوں گے بلکہ اس سے بھی شائد کچھ کم ہی ان کی عمر ہوگی وہ بھی وہیں زمین پر بیٹھے کھیل رہے تھے۔کھیلتے کھیلتے اتفاقاً سر کے بل اس اوکھلی میں گر پڑے۔اب اس میں سے نکل تو وہ سکتے نہیں تھے سیدھے بھی نہیں ہو سکتے تھے۔تھوڑی دیر تک وہ اس حالت میں پڑے رہے آخر بچہ اپنی رہائی کی کوششوں میں نا کامیاب رہ کر رو پڑے۔مگر نہ تو اس کے گرنے اور نہ رونے نے حضرت مسیح موعود کی توجہ میں کوئی خلل پیدا کیا یہ اپنے خیالات میں مست اور غرق اسی طرح اطمینان سے پھرتے رہے بچہ کے رونے کی آواز سے حضرت والده مکر مہ رضی اللہ عنہا (یعنی دادی صاحبہ ) کی توجہ اس طرف مبذول ہوئی۔وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور مرزا سلطان احمد صاحب کو نکال کر پیار کے ساتھ اٹھایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بھی چونکہ انہیں بڑی محبت اور شفقت تھی اس لئے انہیں اور تو کچھ نہ کہہ سکیں یہ کہا کہ ان کے پاس تو کوئی مر بھی جاوے تو ان کو پتہ نہیں ہوسکتا کہ کیا واقع ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی والدہ مکرمہ کے ان الفاظ کوسن کر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور جب انہوں نے آپ کو اس واقعہ سے اطلاع دی تو ہنس کر کہہ دیا کہ مجھے تو کچھ بھی خبر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی والدہ مکرمہ یہاں ضمناً ذکر آ گیا ہے اس لئے میں آپ کی والدہ مکرمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق کچھ تھوڑا سا ذکر کر دیتا ہوں و الا اس کے لئے میں نے آپ کے خاندان تبیال میں ذکر کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔آپ کی والدہ مکرمہ کا نام نامی حضرت بی بی چراغ بی بی تھا۔اور وہ اپنے نام کی طرح فی الحقیقت دنیا کے لئے چراغ کی طرح روشنی ہی کا موجب ہوئیں۔کیونکہ جس کے بطن مبارک سے حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام جیسا عظیم الشان انسان پیدا ہوا جس طرح پر حضرت آمنہ کا نام اللہ تعالیٰ نے ان کے ماں باپ سے اسم بامسٹمی رکھوا دیا کہ ان کے بطن مبارک سے امن کا بادشاہ پیدا ہوا صلی اللہ علیہ وسلم جس نے دنیا کو ہر قسم کی تکلیفوں سے نجات اور امن بخشا اسی طرح