حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 108 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 108

حیات احمد ۱۰۸ جلد اوّل حصہ اوّل دیتا تھا۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ سلسلہ اس سے بھی بہت پہلے کا ہے۔براہین احمدیہ کے متعلق جو خواب آپ کو آئی وہ ۱۸۶۴ء یا ۱۸۶۵ء کی ہے۔ایام طالب علمی میں بھی اس فیض سے آپ حصہ پار ہے تھے۔مگر اس زمانہ کے ان روحانی حالات اور کیفیات کا کوئی مجموعہ ہمارے ہاتھ میں سردست نہیں۔اس لئے صرف ان واقعات پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں یا تقریروں سے ہم کو مل سکے ہیں۔یا بعض دوسرے موثق ذرائع سے حاصل ہوئے۔امتحان مختاری کی تیاری سیالکوٹ کے ایام بود و باش میں آپ نے ایک مرتبہ امتحان مختاری کا ارادہ کیا۔اس کی وجہ زیادہ تر تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اہلکاروں کی زندگی کو آپ دیکھتے تھے کہ وہ بہت کچھ قابل اعتراض اور لائق اصلاح ہے جیسا کہ میں آپ کے بیان کی بناء پر اوپر لکھ آیا ہوں۔اس لئے آپ کا خیال تھا کہ ایک آزاد پیشہ کی طرف توجہ کرنا مفید ہو گا۔اور اس پیشہ کے ذریعہ مظلوموں کی حمایت کی جاسکے گی۔آپ کے ایام طالب علمی کے رفقاء میں سے سیالکوٹ میں ایک کائستھ صاحب لالہ بھیم سین بھی تھے۔وہ بٹالہ میں آپ کے ہم مکتب تھے اور ایک ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر لالہ مٹھن لال صاحب کے رشتہ دار تھے اور اس وجہ سے حضرت مرزا صاحب کے خاندان کے ساتھ انہیں پرانا تعلق تھا۔لالہ بھیم سین اور حضرت مرزا صاحب ایک ہی مکان میں رہتے تھے اور با ہم بڑا ربط ضبط تھا۔لالہ بھیم سین حضرت مرزا صاحب کے اعلیٰ اخلاق اور نیکیوں کے گرویدہ اور معتقد تھے۔پنجاب میں چیف کورٹ کا نیا نیا افتتاح ہوا تھا اور امتحان وکالت کے لئے ابتدائی آسانیاں میسر تھیں اور بعض اہلکاروں کو قبل از امتحان بھی قانونی پریکٹس کی صاحب ڈپٹی کمشنر کی سپارش پر اجازت دے دی جاتی تھی۔لالہ بھیم سین صاحب بھی اسی قسم کے اہلکاروں میں سے ایک تھے۔چونکہ لالہ مٹھن لال صاحب ایکسٹرا اسٹنٹ کمشنر صاحب سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر کے ملاقاتی تھے۔انہوں نے باوجود یکہ لالہ بھیم سین لوکل بورڈ میں اہلمد تھے۔ایک سپارشی چٹھی کے ذریعہ اُن کو وکالت کی اجازت منگوا دی تھی۔ہاں شرط یہ تھی کہ اگر وہ امتحان میں پاس نہ ہوں تو انہیں اپنے اصلی