حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 107
حیات احمد جلد اوّل حصہ اول دیا ہے کہ مقدمہ خارج ہو گیا ہے۔اُس نے کہا کہ ایک طور سے انہوں نے بھی سچ کہا ہے۔بات یہ ہے کہ جب تحصیلدار فیصلہ لکھ رہا تھا تو میں ایک ضروری حاجت کے لئے اُس کی پیشی سے اٹھ کر چلا گیا تھا تحصیلدار نیا تھا اُس کو مقدمہ کی پیش و پس کی خبر نہ تھی۔فریق مخالف نے ایک فیصلہ اُس کے روبرو پیش کیا جس میں موروثی اسامیوں کو بلا اجازت مالک کے اپنے اپنے کھیتوں سے درخت کاٹنے کا اختیار دیا گیا تھا۔تحصیلدار نے اُس فیصلہ کو دیکھ کر مقدمہ خارج کر دیا اور ان کو رخصت کر دیا۔جب میں آیا تو تحصیلدار نے وہ فیصلہ مجھے دیا کہ شامل مثل کرو۔جب میں نے اُس کو پڑھا تو میں نے تحصیلدار کو کہا کہ یہ تو آپ نے بڑی بھاری غلطی کی۔کیونکہ جس فیصلہ کی بناء پر آپ نے یہ حکم لکھا ہے وہ تو اپیل کے محکمہ سے منسوخ ہو چکا ہے۔مدعاعلیہم نے شرارت سے آپ کو دھوکہ دیا ہے اور میں نے اُسی وقت محکمہ اپیل کا فیصلہ جو مثل سے شامل تھا اُن کو دکھلا دیا۔تب تحصیلدار نے بلا توقف اپنا پہلا فیصلہ چاک کر دیا اور ڈگری کر دی۔یہ ایک پیشگوئی ہے کہ ایک ہندوؤں کی جماعت اور کئی مسلمان اس کے گواہ ہیں اور وہی شرمیت اُس کا گواہ ہے جو بہت خوشی سے یہ خبر لے کر میرے پاس آیا تھا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔فَالْحَمْدُ لِلهِ عَلى ذَالِكَ۔خدا کے کام عجیب قدرتوں سے ظاہر ہوتے ہیں۔اس پیشگوئی کی تمام وقعت اس سے پیدا ہوئی کہ ہماری طرف سے کوئی حاضر نہ ہوا اور تحصیلدار نے غلط فیصلہ فریق ثانی کو سنا دیا۔دراصل یہ سب کچھ خدا نے کیا اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ خاص عظمت اور وقعت پیشگوئی میں ہرگز پیدا نہ ہوتی۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۴) سیالکوٹ کے زمانہ میں بعض واقعات کی قبل از وقت اطلاع جن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سیالکوٹ میں بسلسلہ ملازمت رہتے تھے ان ایام میں بھی آپ کے ساتھ یہ سلسلہ جاری تھا۔اور اللہ تعالیٰ آپ کو بعض واقعات کی قبل از وقت خبریں