حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 109
حیات احمد 1+9 جلد اوّل حصہ اوّل عہدہ پر واپس ہو جانا پڑے گا۔چنانچہ اس مقصد کے لئے انہوں نے رخصت لے رکھی تھی۔تیاری امتحان میں مشغول تھے اور دن کو با قاعدہ پریکٹس کرتے تھے۔انہوں نے حضرت مرزا صاحب کو بھی تحریک کی کہ وہ امتحان وکالت دے دیں۔غرض اس تحریک یا اور اسباب کی بناء پر حضرت مرز اصاحب بھی شامل امتحان ہوئے۔مگر قبل اس کے جو نتیجہ شائع ہو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نتیجہ امتحان سے آگاہ فرما دیا۔لالہ بھیم سین کی کامیابی کا نظارہ دکھایا گیا! حضرت مرزا صاحب نے رویا میں دیکھا کہ امتحان کے جو پرچے تقسیم ہوئے ہیں وہ دو قسم کے کاغذات پر ہیں۔زرد اور سرخ۔تمام امیدواروں کو زرد رنگ کے پرچے تقسیم ہوئے ہیں اور لالہ بھیم سین کو سرخ رنگ کا پرچہ۔حضرت مرزا صاحب نے اس کی تعبیر یوں کی ہے کہ لالہ بھیم سین پاس ہو جائیں گے گویا سرخرو ہوں گے اور زرد رنگ سے نا کامی کی تعبیر کی۔امتحان کے کمرہ میں بعض حالات اور واقعات ایسے پیش آئے تھے کہ قریب تھا کہ وہ امتحان منسوخ ہو جائے لیکن آخر جب نتیجہ نکلا تو وہ عین خواب کے مطابق تھا۔لالہ بھیم سین کو حضرت مرزا صاحب کی خوبیوں اور فضائل کا پہلے ہی اعتراف تھا اور وہ ان کی رؤیا کور ویا ء صالحہ یقین کرتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ حضرت مرزا صاحب ایک مُرتاض زندگی بسر کرنے والے بزرگ ہیں۔اس واقعہ نے انہیں اور بھی معتقد بنا دیا۔حضرت مرزا صاحب بھی اس امتحان میں فیل ہوئے اور فیل ہونا ضروری تھا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مقصد اور غرض کے لئے پیدا ہی نہیں کیا تھا۔اس واقعہ کو حضرت اقدس نے خود بھی بیان فرمایا ہے۔اور براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۵۶ (روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۸۴ حاشیہ نمبرا) میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔اور یہ ۱۸۶۸ء کا واقعہ ہے۔لالہ بھیم سین صاحب نے خود اپنے خط کے ذریعہ حضرت مسیح موعود کو قادیان خبر دی تھی کیونکہ آپ سیالکوٹ سے آچکے تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام اپنے نشانات کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ :- ایک وکیل صاحب سیالکوٹ میں ہیں جن کا نام لالہ بھیم سین ہے۔( اب وہ