حیات شمس — Page 47
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مکتوب حضرت میاں امام الدین بنام حضرت مولا نائس صاحب 47 اکتوبر 1925ء میں عین جوانی کے عالم میں جبکہ حضرت مولانا شمس صاحب بلا د عر بیہ میں خدمات بجا وو لا رہے تھے آپ کے والد محترم نے شام میں آپ کے نام ایک مکتوب لکھا جسے ہدیہ قارئین کیا جارہا ہے: عزیزم مولوی جلال الدین فاضل سلمہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ دو خطوط آں عزیز کے پہنچ گئے۔نہایت خوشی حاصل ہوئی۔تمام حالات سے آگاہی حاصل ہوئی۔گو جدائی کے صدمات ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے جو آنعزیز کوم رتبہ عطا کیا ہے ہر ایک کو نہیں ملتا۔تبلیغ کا کام سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔سو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آں عزیز کو پسند فرما کر بھیجا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کام میں برکت عطا فرمائے اور ہر ایک طرح دین کی نصرت عطا فرمائے۔جو حالات لوگوں کے تحریر کئے ہیں یہ حالات ہمیشہ ہی رسولوں کے وقت ہوتے رہے ہیں اور لوگ یہی کہتے رہے ہیں مگر کیا لوگ اپنی باتوں میں کامیاب ہوئے یا رسولوں کو کامیابی ہوئی ؟ الہی وعدہ ہے کہ وہ آخر کار اپنے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔بیشک اللہ تعالیٰ کا ہر دل پر قبضہ ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور یہ یقین ہے اور ایمان ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو وعدے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے ہیں، پورے ہوں گے اور ضرور ہونگے۔یہ کام تو خدا تعالیٰ خود اپنے فضل سے کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔بمفت ایں اجر نصرت را دہندت آے اخی ورنہ قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا بکوشید اے جواناں تا بدین قوت شود پیدا بہار , رونق اندر ملت روضه شود پیدا سواب کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ دین میں قوت عطا فرمائے۔اب خدا تعالیٰ نے آں عزیز کے سپرد یہ کام کیا ہے نہایت مضبوطئی دل سے یہ کام کرنا۔گھبرانا نہیں۔آنکھوں کے سامنے وہ نظارے رکھنے چاہئیں۔کیا حضرت ابراہیم کا دل چاہتا تھا کہ ہاجرہ اور اپنے بچے اسماعیل کو جنگل میں چھوڑ آؤں مگر وہ کام خدا کے حکم کے ماتحت کرتے تھے۔