حیات شمس

by Other Authors

Page 46 of 748

حیات شمس — Page 46

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس قبولیت دعا 46 46 مرحوم کی اولاد چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتی تھی۔کئی بچے فوت ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا۔حضور نے کشتہ فولاد استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔حضور کے بابرکت مشورہ پر عمل کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ آپ کی اولا دزندہ رہی۔مرحوم قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت کی وجہ سے کثرت سے آمد ورفت رکھتے۔جو ہمیں جانتا ہے اسے بھی طاعون نہیں ہو سکتی ایک دفعہ آپ کا لڑکا بشیر احمد ران میں گلٹی ہونے کے باعث بیمار ہو گیا۔بعض لوگوں نے خیال کیا کہ طاعون ہے۔مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضوڑ کو پہلے سے اطلاع ہو چکی تھی حضور نے فرمایا۔یہ طاعون نہیں بلکہ داد ہے اور بڑے جوش سے فرمایا دیکھو جس کو ہم جانتے ہیں اسے بھی طاعون نہیں ہو سکتی اور جو ہمیں جانتا ہے اسے بھی طاعون نہیں ہو سکتی۔مرحوم یہ کلمات سن کر گاؤں گئے اور تھوڑے دنوں میں بشیر احمد کو آرام ہو گیا۔وفد تحصیل شکر گڑھ مرحوم کے اخلاص اور ایمان کی پختگی کا حال کسی قدر اس واقعہ سے لگ سکتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے حکم سے بعض مبلغین کو تحصیل شکر گڑھ بھیجا گیا۔وہاں مواشہ قوم کے متعلق خیال تھا کہ اسلام کے قریب آ رہی ہے۔مبلغین کی تبلیغ کا یہ نتیجہ ہوا کہ کئی لوگ مسلمان ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اطلاع بھجوائی گئی۔حضور نے بیعت لینے کے لئے حضرت مرحوم کو منتخب فرمایا۔شیخ مصری صاحب نے کہا کہ یہ شخص سادہ سا ہے اسے بھیجنا مناسب نہیں مگر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کا مشورہ قبول نہ کیا اور فرمایا آپ لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ان صحابہ کی قدرومنزلت معلوم نہیں۔جب کوئی مبلغ نہ تھا تو یہی لوگ تبلیغ کرتے تھے اور دین حق لوگوں تک پہنچاتے تھے۔چنانچہ مرحوم کو تحصیل شکر گڑھ بھیجا گیا۔آپ نے کئی روز تک وہاں قیام فرمایا اور بیعت لی۔“ روزنامه الفضل قادیان 16 مئی 1941 ، صفحہ 5)