حیات شمس — Page 34
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 34 جائے۔اس ضمن میں امریکہ ،افریقہ، لندن، ہالینڈ، فرانس، فلسطین، جاوا و دیگر بیرونی ممالک کے مبلغین کو خطوط تحریر کر کے یہ اعتراضات جمع کئے جارہے ہیں۔اسی طرح بیرون ممالک سے واپس آنے والے مبلغین سے بھی ان اعتراضات کو جمع کرنے میں مدد لی گئی اور ان کی ایک فہرست مرتب کی جارہی ہے۔“ 1948ء میں آپ کے سپرد کئی نظارتوں کے کام ہوئے۔چنانچہ مولانا موصوف اس کی بابت تحریر کرتے ہیں: آجکل میرے سپرد کئی نظارتوں کا کام کیا گیا ہے۔مثلاً نظارت تالیف و تصنیف، دفتر بہشتی مقبرہ ہسیکرٹری مجلس تعلیم وغیرہ ذالک اس لئے اس کام کیلئے فرصت کم ملتی ہے۔ایک بہت بڑی مشکل یہ ہے کہ تصنیف کے کام کیلئے ضروری کتب مہیا نہیں ہیں۔میرا اپنا قیمتی کتب خانہ قادیان میں لوٹ کی نذر ہو چکا ہے۔اب آئندہ سال (1949ء - 1948 ء) میں انشاء اللہ اس کام کی طرف زیادہ توجہ ہوگی۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے قضیہ فلسطین کے متعلق ایک نہایت اہم خطبہ الکفر ملة واحدة‘ کا عربی ترجمہ کیا گیا اور عراق میں اس کی طباعت کروا کر بلا دعر بیہ میں اس کی اشاعت کی گئی۔بغداد کے روز نامہ اخبار " الشوری اور ”الحقیقہ“ وغیرہ نے اس خطبہ کی بہت تعریف کی اور شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے فلسطین کے عربوں اور عام مسلمانوں کی بہت خدمت کی ہے۔رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمد یہ 1948ء - 1947 ء صفحہ 30-31) - ”ربوہ“ کا نام آجکل ربوہ جس جگہ آباد ہے اس کا پرانا نام چک ڈھگیاں تھا۔چک ڈھگیاں کی زمین کے حصول کے بعد مؤرخہ 16 ستمبر 1948ء کو صدر انجمن احمدیہ کی میٹنگ میں ” چک ڈھگیاں“ کا نیا نام تجویز کیا گیا کہ جس میں کئی نام زیر غور آئے جن میں ماوی ( پناہ گاہ)، ذکری ( عبادت گاہ)، دارالہجرت اور مدینہ ایسی بھی شامل تھے۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے "چک ڈھگیاں“ کا نیا مبارک نام ”ربوہ“ تجویز فرمایا لہذا اس نام کو حتمی منظوری کیلئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت اقدس میں پیش کر دیا گیا۔عربی زبان میں ربوہ کا وہی مطلب ہے جو کہ پنجابی زبان میں ڈھگیاں یعنی اونچے ٹیلوں والی جگہ کے ہیں۔الفضل انٹر نیشنل لندن 7 جولائی 2000 صفحہ 9-10)