حیات شمس

by Other Authors

Page 33 of 748

حیات شمس — Page 33

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 1948 33 ان کی وجہ معاش کیلئے حسب حالات کوئی سامان کرنے کا کام بھی کچھ کم اہمیت نہ رکھتا تھا۔یہ مشکلات ایسی نہ تھیں جو غیر از جماعت لوگوں پر نہیں آئیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا اور ہمارا ایک مونس و غمخوار تھا۔جب وہ لوگ پراگندہ بھیڑوں کی طرح مارے مارے پھر رہے تھے، ہم لوگوں کو آستانہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی وجہ سے ایک گونہ تسکین قلب حاصل تھی۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خدام کی تکالیف کو دیکھا اور ان کے مصائب کو سنا اور ہر ممکن ذریعہ سے نہ صرف سلسلہ کی طرف سے بلکہ ذاتی طور پر بھی ان کی دلجوئی کے سامان کئے۔اپنے روح پرور کلام سے ان کی محبتوں کو بڑھایا اور ان کے حوصلوں کو بلند کیا۔مہاجر غرباء کی تن پوشی کیلئے تحریک کر کے ذی استطاعت اور مخیر اصحاب سے کپڑے مہیا کرائے اور سلسلہ کے اموال کو بے دریغ خرچ کر کے ان کو فقر وفاقہ کی حالت سے بچایا۔بیماریوں کیلئے ادویات اور ڈاکٹروں کا انتظام کرایا اور لاہور سے باہر جا کر آباد ہونے والوں کیلئے حسب ضرورت زاد راہ مہیا کیا اور ان کے گزاروں کیلئے ہر اخلاقی اور مالی امداد فرمائی۔موسم سرما میں کام آنے والے پار چات مہیا کرائے۔غرض ہزاروں لاکھوں برکات اور افضال نازل ہوں اس محبوب اور مقدس آقا پر جس نے ایسے روح فرسا حالات میں اپنے خدام کی دستگیری فرمائی۔ہمارے دل حضور کیلئے شکر و امتنان کے جذبات سے معمور ہیں۔لیکن ہماری زبانیں ان جذبات کے اظہار سے عاجز ہیں۔“ رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمدیہ پاکستان 48-1947ء صفحہ 50) ناظر تالیف و تصنیف اپریل 1948ء کو سیدنا حضرت مصلح موعود نے آپ کو قائم مقام ناظر تالیف و تصنیف مقرر فرمایا۔مارچ 1948ء کو حضور نے غیر معمولی نوعیت کا ایک نہایت اہم کام آپ کے سپرد کیا۔اس کے بارہ میں حضرت مولانا شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں: ' خاکسار ( جلال الدین شمس ناظر تالیف و تصنیف) کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں اسلام کے خلاف عیسائیوں کے اعتراضات کو جمع کیا جائے اور ان کا جواب لکھا