حیات شمس — Page 35
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس $1952 ممبر تعمیر (ربوہ) کمیٹی 35 26 تبوک ستمبر 1948 ء کو صدر انجمن احمدیہ (ربوہ) کے تعمیراتی کام کے پیش نظر سید نا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں سفارش پیش کی گئی کہ تعمیر کمیٹی کیلئے مندرجہ ذیل ممبروں کا تقر ر منظور فرمایا جائے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (صدر)، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب (سیکرٹری)، صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب، مولوی عبدالرحیم در دصاحب ، مولانا جلال الدین صاحب شمس ( ممبران۔۔۔حضور نے تحریر فرمایا: ریزولیوشن منظور ہے سوائے تعمیر کے سوال کے۔اس وقت تعمیر کا کوئی سوال نہیں صرف سامان جمع کرنے کا سوال ہے اور اس کا فیصلہ میری موجودگی میں ہوتا ہے۔اس وقت سروے کا سوال ہے اور معلومات جمع کرنا۔“ مجلس افتاءر بوہ میں خدمات تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 414) سیدنا حضرت مصلح موعو نے 1943ء میں فقہ اسلامیہ کے مختلف مسائل پر غور وفکر کرنے کیلئے ایک افتاء کمیٹی قائم فرمائی تھی۔قیام پاکستان کے بعد افتاء کی اس کمیٹی کا اجراء سید نا حضرت مصلح موعود نے 7 جنوری 1952ء میں فرمایا۔اس موقعہ پر آپ نے فرمایا: جیسا کہ جلسہ پر اعلان کیا گیا تھا فقہی مسائل پر یکجائی غور کرنے اور فیصلہ کیلئے جماعت احمدیہ کی ایک کمیٹی مقرر کی جاتی ہے۔تمام اہم مسائل پر فتوئی اس کمیٹی کے غور کرنے کے بعد شائع کیا جائے گا۔ایسے فتاوی خلیفہ وقت کی تصدیق کے بعد شائع ہوں گے اور صرف انہی امور کے متعلق شائع ہوں گے جس کو اہم سمجھا گیا ہو۔ایسے فتاویٰ جب تک ان کے اندر کوئی تبدیلی نہ کی گئی ہو یا تنسیخ نہ کی گئی ہو، جماعت احمدیہ کی قضاء کو پابند کرنے والے ہوں گے اور وہ ان کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکے گی۔ہاں ان کی تشریح کرنے میں آزاد ہوگی۔لیکن اگر وہ تشریح غلط ہو تو یہی مجلس فتویٰ دہندہ اس تشریح کو غلط قرار دے سکتی ہے۔اس کمیٹی کے فی الحال مندرجہ ذیل ممبر ہوں گے: