حیات شمس

by Other Authors

Page 26 of 748

حیات شمس — Page 26

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 26 خطاب بھی فرمایا۔7 اپریل کو حضرت مولانا شمس صاحب نے ”بلاد اسلامیہ میں جماعت احمدیہ کی خدمات“ کے موضوع پر تقریر فرمائی۔مخلصین جماعت سے قربانیوں کے مطالبات دیکھیں الفضل قادیان 12 اپریل 1934ء) 23 نومبر 1934ء کو سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے قربانی کے مطالبات فرمائے۔تیسرا مطالبہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: ’ جماعت سے قربانی کا تیسر امطالبہ میں یہ کرتا ہوں کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے اس وقت بڑی ضرورت ہے کہ وہ جو گندہ لٹریچر ہمارے خلاف شائع کر رہا ہے اس کا جواب دیا جائے اور اپنا نقطۂ نظر احسن طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے اور وہ روکیں جو ہماری ترقی کی راہ میں پیدا کی جارہی ہیں انہیں دور کیا جائے۔اس کیلئے بھی ایک خاص انتظام کی ضرورت ہے۔یہ میں اس کمیٹی کے سپر د کروں گا جو اس غرض کیلئے بنائی جائے گی۔“ $1936 ( خطبات محمود، جلد 15 ، سال1935ء۔صفحات 432-433) اس کمیٹی میں 15 ممبران شامل تھے جن میں حضرت مولا نائٹس صاحب بھی شامل تھے۔کشمیر ریلیف فنڈ جب فروری 1936ء میں مولانا صاحب انگلستان میں تبلیغ اسلام کیلئے روانہ ہوئے تو آپ کی جگہ کشمیر ریلیف فنڈ ( آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا دفتر بعد میں کشمیر ریلیف فنڈ سے موسوم ہوتا تھا) کے انچارج حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب یکی از اصحاب تین صد تیرہ بنائے گئے۔اس دفتر کے بارہ میں مؤلف تاریخ احمدیت تحریر کرتے ہیں : اس دفتر کے ذمہ تحریک آزادی کشمیر سے متعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ امور کا انتظام تھا۔غیر احمدی دوستوں کے عطایا مسلم بنک لاہور میں جمع ہوتے تھے اور احمدیوں کا چندہ دفتر وصول کرتا تھا۔یہ دفتر کشمیر کمیٹی ہر قسم کے چندہ کی آمد اور خرچ کا پورا حساب رکھتا تھا۔اندرون یا بیرون ریاست میں تحریک آزادی کے لیڈروں اور کارکنوں کے فوری اخراجات مہیا کرتا۔کشمیری طلباء کے وظائف کا انتظام کرتا۔جلا وطن اور نظر بند شہریوں کی امداد کرتا اور عدالتوں کے ضروری اخراجات ادا کرتا تھا۔تاریخ احمدیت طبع اول جلد 6 صفحہ 475)