حیات شمس

by Other Authors

Page 661 of 748

حیات شمس — Page 661

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مطابق بطور نمونہ چند رویا درج ذیل کرتا ہوں۔" وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرِّ قَدِ اقْتَرَبَ» رہائی جولائی 1925ء میں بمقام دمشق میں نے خواب میں دیکھا کہ میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہیں کہ ”وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرِّ قَدِ اقْتَرَب عرب کے لئے ویل (بلاء۔مصیبت۔ہلاکت۔تباہی) ہے ایک شر سے جو نزدیک آگئی ہے۔چنانچہ اس کے ایک ماہ بعد فرانسیسیوں اور اہالیان جبل دروز کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس میں تمام ملک شام شامل ہو گیا اور انہیں سخت مصیبت کا سامنا ہوا۔اس جنگ میں فرانسیسیوں نے دمشق پر متواتر کئی گھنٹے شدید گولہ باری کی جس سے اس کا ایک بڑا حصہ کھنڈرات بن کر رہ گیا اور وہ رات قیامت کا منظر پیش کر رہی تھی۔اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام بلاء دمشق پورا ہوا۔یہ جنگ اڑھائی سال تک جاری رہی۔1927 ء کے آخر میں عفو عام کا اعلان ہوا اور انتخابات کا وقت آ گیا تا قانون اساسی بنایا جائے اور فرانسیسی حکومت نے اپنی سیاسی اغراض کے پیش نظر دمشق کے مشہور شیخ بدرالدین کے بیٹے شیخ تاج الدین کو رئیس الوزراء بنا دیا۔دسمبر 1927ء میں مشائخ شام نے مجھے قتل کرانے کی غرض سے بعض غنڈوں کو مقرر کر دیا۔جنہوں نے 20 دسمبر کو جبکہ میں اپنے گھر کو جارہا تھا راستہ میں مجھ پر قاتلانہ حملہ کر کے بُری طرح زخمی کر دیا۔جب میں ہسپتال سے ڈسچارج ہوا تو میں نے ایک ہوٹل میں کمرہ لے لیا۔فروری 1928ء میں حکومت نے دو مشائخ پر میرے زخمی ہونے کے سلسلہ میں کیس چلا یا اس اثناء میں شیخ تاج الدین کے پاس مشائخ کے وفود گئے اور میرے نکلوانے کے لئے آہ وزاری کی اور درخواستیں پیش کیں۔وہ بیروت گیا اور فرانسیسی ہائی کمشنر سے میرے نکلوانے کے لئے درخواست کی۔اور میں نے خواب میں دیکھا ( یہ خواب ایک قسم کی بیداری میں ہی تھی ) کہ ایک شخص میرے پاس آیا ہے اور کہتا ہے کہ تین دن تک آپ کے نکالنے کا حکم صادر ہوگا۔چنانچہ اس کے مطابق ٹھیک تین دن کے بعد مجھے دائرۃ الامن العام کی طرف سے ہائی کمشنر کے حکم کی نقل دی گئی کہ میں 629