حیات شمس — Page 660
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 628 ہے۔جب ہم وادی میں اتر کر چشمہ کے پاس ایک توت کے درخت کے سایہ میں بیٹھے۔تو ایک شخص ہمارے پاس آکر بیٹھ گیا اور میرے ساتھیوں سے میری نسبت دریافت کیا کہ کیا آپ ہی ہندی مبلغ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہاں وہ یہی ہیں۔اس نے کہا یہاں قریب ہی ایک شیخ رہتا ہے وہ ان سے ملنے کا خواہشمند ہے۔عصر کی نماز پڑھ کر ہم اس شیخ کے پاس گئے۔وہ دور سے ہمیں آتا دیکھ کر ننگے پاؤں دوڑا آیا اور مجھ سے مصافحہ اور معانقہ کر کے اس نے نہایت ہی محبت اور خلوص کا اظہار کیا اور کہا۔جب ہم نے مشائخ کو جامع مسجد حیفا میں آپ کے خلاف یہ کہتے سنا کہ یہ ہندی کا فر ہے۔کہتا ہے مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور مسیح موعود آچکا ہے تو ہم نے آپ کی تلاش شروع کی۔لوگوں سے پوچھتے تو آپ کا پتہ نہ دیتے بعض کہتے وہ یہاں سے چلا گیا ہے۔بعض کہتے کہ نابلس یا غزہ میں کسی نے قتل کر دیا ہے ( اس قدر بات کر کے وہ رو پڑا ) پھر کہنے لگا۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ خود ہی آپ کو ہمارے پاس لے آیا ہے۔ہم تو پہلے ہی اس بات پر ایمان لا چکے ہیں کہ جو کچھ آپ نے میزان الاقوال میں لکھا ہے اس پر ہم ایمان رکھتے ہیں (میزان الاقوال میری کتاب ان کے پاس پہنچ چکی تھی ) پھر انہوں نے سنایا کہ بیس سال کا عرصہ ہوا میں یمن میں امام محمد بن ادریس کے پاس تھا کہ کابل کی طرف سے امام محمد بن ادریس کے پاس چند کتابیں اس مدعی کی پہنچیں۔آپ نے وہ کتابیں پڑھ کر علماء کے سپرد کر دیں اور کہا کہ یہ آپ کا کام ہے اس کے متعلق رائے ظاہر کریں اور خود اس کے متعلق کچھ نہ کہا۔پھر علماء میں اس کے متعلق اختلاف ہو گیا۔بعض کہیں جو کچھ اس نے لکھا ہے سچ ہے۔بعض کہیں ایسی باتیں کہنے والا کافر ہے۔مگر میں استخارہ کر کے اور بعض خواہیں دیکھ کر آپ پر ایمان لے آیا۔چنانچہ اس وقت سے میں امام الوقت مسیح موعود کو مانتا ہوں۔اس بزرگ کا نام الحاج محمد المغرب الطرابلسی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الهام يَدْعُونَ لَكَ اَبْدَالُ الشَّامِ وَ عِبَادُ اللَّهِ مِنَ الْعَرَبِ کے مصداق ہیں۔چند خوا ہیں : اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے مجھے بہت سی باتیں رویا میں دکھا ئیں جو اپنے وقت پر اسی طرح پوری ہوئیں جیسا کہ رویا میں دکھائی گئی تھیں میں مؤلف کتاب ہذا کے ارشاد کے