حیات شمس

by Other Authors

Page 616 of 748

حیات شمس — Page 616

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 584 ہو رہا تھا۔میں نے آہستہ سے شمولیت کرنے کی کوشش کی اور عرض کیا کہ شمس صاحب کی تقریر میں روانی کیسی ہوتی ہے! یوں لگتا تھا جیسے بیان کا ایک جاری چشمہ ہے۔تب میرے والد صاحب نے تمام حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے جو فرمایا اس نے میری حیرت کو مزید حیران کر دیا۔آپ نے بتایا کہ: دوسشمس صاحب کی زبان تو بالکل تلوار کی سی چلتی تھی یہ تو دمشق میں ظالم مخالفین نے جب آپ پر قاتلانہ حملہ کیا تو اس کے بعد اس روانی میں کمی آگئی ہے کیونکہ حملہ آور نے گردن پر وار کیا تھا اور آپ معجزانہ طور بچ گئے مگر بہر حال اس کا کچھ اثر تو باقی رہنا تھا “ محتر می شمس صاحب سفید شلوار قمیض اور اچکن زیب تن فرماتے۔گرمیوں میں اکثر سفید ململ کی قمیض پہنتے۔کلاہ پگڑی بھی آپ کے لباس کا حصہ تھا سفید پگڑی کلاہ کے اوپر بالکل الگ انداز سے باندھتے۔حضرت مصلح موعودؓ آخری ایام میں جب بیماری کی وجہ سے مسجد تشریف نہیں لا سکتے تھے تو آپ کی عدم موجودگی میں محترم می شمس صاحب ہی حضور کے ارشاد کے تحت مسجد مبارک میں امامت کے فرائض انجام دیتے۔عیدین اور جمعہ کے خطبات بھی آپ ہی دیتے۔ایک دفعہ خطبہ جمعہ میں معراج کا واقعہ آپ بیان کر رہے تھے۔کئی سال گزر جانے کے باوجود مجھے وہ منظر اچھی طرح یاد ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہمارے آقاو مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معشوق حقیقی سے ملنے کے لئے بے چینی اور بیقراری کے عالم میں بڑی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہے تھے اور مولیٰ کریم آسمان پر یہ منظر دیکھ رہا تھا۔تڑپ اور لگن کی یہ حالت دیکھ کر خود معشوق حقیقی عاشق سے ملنے کے لئے آگے بڑھا سچ تو یہ ہے ملنے کا تب مزہ ہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی !!!!!! احساس کی وسیع وادی میں کھڑا سوچ رہا ہوں کہ اے کاش میں اچھا لکھاری ہوتا تو حضرت مصلح موعودؓ جن کے بارہ میں خدائے قدوس نے فرمایا: نور آتا ہے نور كان الله نزل من السماء کی تیار کردہ عظیم فوج کے اس عظیم سپہ سالار کے بارہ میں اپنی مزید یا دیں بیان کرنے کا حق ادا کر سکتا مگر پھر بھی افسردہ نہیں کہ میں جانتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء نے علم کے جو چراغ روشن فرمائے ہیں ان کی ضیاء اور روشنی میں کھڑا قاری اس خاکسار کے لکھے ہوئے بے جوڑ جملوں کو جوڑ کر بھی حقیقت تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔مولانا کی دینی مصروفیات اس قدر تھیں کہ بہت کم ملنے ملانے کا وقت