حیات شمس — Page 615
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 583 عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، سید نا حضرت مسیح موعود سے دلی محبت اور آپ کے خلفاء کا احترام اور ان سے پیار آپ کے کردار کا سب سے بڑا حصہ تھا اسی لئے جماعت احمدیہ کے اکثر وبیشتر جلسہ سالانہ کے موقعہ پر سیرت البنی صلی اللہ علیہ وسلم یا صداقت حضرت مسیح موعود یا خلافت سے وابستگی کے موضوعات پر آپ کی تقاریر سنی جاتیں۔جلسہ سالانہ میں جب آپکی تقریر کا وقت ہو جاتا تو سب چھوٹے بڑے اگر کسی ضرورت کے پیش نظر جلسہ گاہ سے باہر آئے ہوتے تو جلسہ گاہ کا رخ کرتے اور بیٹھ کر آپ کی تقریر سے مستفید ہوتے۔سیدنا حضرت الصلح الموعود کو بھی آپ سے بہت پیار تھا اور اسی لئے اپنی بیماری کے ایام میں آپکی تقریر کا وقت دوسرے علماء کرام سے بڑھانے کی ہدایات جاری فرماتے۔آپ کا طرز تقریر بالکل جدا گانہ تھا۔جلسہ گاہ میں موجود ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں دوستوں پر آپ کی نظر ہوتی اور نہایت دقیق اور علمی نکات ایسی مہارت سے بیان فرماتے کہ سامعین کی سطح پر آکر بات شروع کرتے اور سامعین کو اپنے ساتھ ساتھ اس مقام پر لے جاتے کہ پنڈال میں ہر طرف نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوتے۔اسلام اور احمدیت کے غلبہ کا ذکر ہمیشہ اس قدر جاہ وجلال سے کرتے کہ اسلام زندہ باد، احمدیت زندہ باد کے نعروں میں بعض اوقات آپکی آواز گویا دب جایا کرتی تھی۔تحقیق اور طرز بیان کے ساتھ ساتھ آپکی تقریر میں بے پناہ روانی ہوتی ایسی روانی گویا علم کے گہرے سمندر میں طغیانی آئی ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔مضمون کی مناسبت سے الفاظ کا ایسا انتخاب ہوتا کہ سننے والا محسوس کرتا بلکہ یقین کرتا کہ دست بستہ نظر آتے ہیں ہر اک موڑ پہ حرف ہم جو پروانه سلطان قلم لے کے چلے یہ ایسے حقائق ہیں جو آج تک ہمارے اذہان پر گہرے نقوش چھوڑ گئے ہیں۔ایک جلسہ سالانہ ربوہ میں ہم گھر میں بیٹھے (ہمارے گھر الحمد للہ جلسہ سالانہ پر کثیر تعداد میں مہمانان حضرت مسیح موعود آیا کرتے تھے اور ان میں بعض بڑے صاحب ذوق دوست مثلاً نوابزادہ وصال محمد خان صاحب، پیرسید کبرشاه (میجر ) صاحب جیسے علماء بھی ہوتے تھے ) آپ کی تقریر پر بات کر رہے تھے۔شاید اس موقع پر میرے والد صاحب حضرت صاحبزادہ محمد طیب صاحب لطیف مرحوم و مغفور کے بہت قریبی دوست سردار کرنل محمد حیات خان صاحب قیصرانی اور میاں عبدالسمیع نون صاحب بھی موجود تھے۔بہر حال ہر طرف سے داد تحسین کے ساتھ ساتھ حیرت کا اظہار کیا جارہا تھا۔میں ان دنوں طالب علم تھا مگر بزرگوں کی محافل میں بیٹھ کر ان کی باتوں سے مستفید ہونا میرا ایک گونا مشغلہ تھا۔جوں جوں محفل پر آپکی تقریر کا رنگ چڑھ رہا تھا میں بھی لطف اندوز