حیات شمس — Page 617
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 585 انہیں ملتا تھا۔تصنیف و تالیف پھر اصلاح وارشاد کی نظارت کو چلانے کے ساتھ ساتھ خلیفہ وقت کی ہدایات و ارشادات جماعت تک پہنچانا یہ ایسی ذمہ داریاں ہیں کہ ان کا اندازہ لگانا بھی معمولی بات نہیں مگر اس کے باوجود مولانا شمس صاحب کی سید الشہداء حضرت سید صاحبزادہ عبداللطیف صاحب سے بے پناہ محبت اور عقیدت کے ناطے ہم سے بھی بہت پیار و شفقت سے ملتے اس لئے کبھی ملاقات کا موقع مل جاتا تھا۔ایسی ہی ایک ملاقات میں خاکسار کے پوچھنے پر آپ نے دمشق میں خود پر قاتلانہ حملہ کا واقعہ کچھ اس انداز سے سنایا کہ میں آنکھوں میں آنسو لئے ان کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا۔انہوں نے بتایا کہ ابھی وہ جوان تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف ” تذکرۃ الشہادتین ایک رات وہ پڑھ رہے تھے۔اس مبارک تصنیف کا ایک ایک جملہ میں پڑھتا جاتا تھا تو ایک حسین شہزادے کی حسین تصویر میرے ذہن پر نقش ہوتی چلی گئی۔یہ شہزادہ جو اخلاص کی وادی سے عزم و استقامت اور وفا کے پھول مسیح دوراں کیلئے لایا تھا چند ہی روز حضور کی خدمت عالیہ میں رہا اور پھر سب کچھ سمیٹ کر اپنے آقا کی اجازت سے مسیح کی منادی کرنے واپس کا بل چلا گیا اور پھر نہایت جوانمردی سے اپنی بیعت کو سچا کر دکھایا اور کابل پہنچ کر اپنے مبارک خون سے کابل کی دیواروں پر جاء المسیح جاء المسيح تحریر فرما دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس خادم کی اس عظیم قربانی کو جماعت کے لئے اسوہ کے طور پر پیش فرمایا اور اس قدر محبت کا اظہار فرمایا کہ اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔آپ نے فرمایا: اے عبداللطیف تجھ پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں صدق کا نمونہ دکھایا۔شمس صاحب مرحوم یہ واقعہ نہایت جلالی انداز میں سنا رہے تھے اور پھر آگے بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس پیار اور محبت سے اس جلیل القدر انسان کا واقعہ تحریر فرمایا ہے پڑھتے پڑھتے میری حالت غیر ہوتی چلی گئی اور اس عظیم انسان کی عظمت پر اشک بہانے کی بجائے رشک کرتے ہوئے اپنے مولیٰ کریم سے دعا کی کہ: ”اے میرے خدا مجھے بھی حضرت صاحبزادہ صاحب کی طرح تیرے مسیح سے وفا کے اظہار کا موقع عطا فرما اور پھر مجھے استقامت عطا فرما اور خوشی خوشی یہ راہ اپنانے کی توفیق عطا فرما۔یہ میری جوانی کے دنوں کی خواہش تھی جسے مولیٰ کریم نے اس طور پر قبول فرمایا کہ جب میں بلا د عربیہ میں مبلغ بن کر گیا تو دمشق میں ہمیشہ کی طرح حق کی مخالفت کرنے والوں نے پروگرام بنایا کہ امیر المومنین حضرت مصلح موعود کے ہاتھوں لگائے گئے پودے کو نا پید کر دیا جائے اور باقاعدہ پروگرام سے ایک سفاک انسان کو میرے