حیات شمس — Page 594
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 562 طرح خدمت دین کی توفیق ملے۔میں نے اپنا تخلص نجم رکھا یہ سوچ کر کہ شمس تو آپ ہیں اللہ تعالیٰ مجھے ایک چھوٹا سا نجم ہی بنا دے تو اس کی بڑی مہربانی ہوگی۔میں نے جب 1964ء میں بی اے کیا اور پھر میں نے وقف بھی کر دیا اور حضرت شمس صاحب کو بتایا کہ میں نے وقف کر دیا ہے تو آپ بہت خوش ہوئے مجھے اٹھ کر سینے سے لگا لیا اور میرے لئے دعا بھی کی۔میں سمجھتا ہوں یہ آپ کی دعاؤں اور مربیانہ توجہ کا ثمرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ قدم اٹھانے کی توفیق عطا فرمائی۔آپ دن رات سلسلہ کے کاموں میں مصروف نظر آتے تھے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا سیٹ چھپوانا شروع کیا۔اس کا انڈیکس ترتیب دیا تو میرے دل میں اس سیٹ کے حاصل کرنے کی زبردست خواہش پیدا ہو گئی۔میں نے حضرت مولانا سے عرض کیا کہ ڈیڑھ سو روپے قیمت سیٹ یکمشت تو ادا نہیں کر سکتا اور میں اسے حاصل بھی کرنا چاہتا ہوں کوئی صورت نکالیں تو پوچھنے لگے دس روپے ماہانہ تو دے سکتے ہونا ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں اتنے تو دے سکتا ہوں۔چنانچہ فرمایا ہر ماہ دس روپے دے دیا کرو پندرہ ماہ میں ادائیگی ہو جائے گی اور سیٹ بھی تمہارا ہو جائے گا۔چنانچہ میں سب سیٹ کی کتب لے آیا جو رہ گئی تھیں وہ جوں جوں شائع ہوتی رہیں مجھے ملتی رہیں۔اسی طرح بعد میں ملفوظات کا سیٹ بھی مل گیا اور دیگر کتب جو شائع ہوتی تھیں مجھے نصف قیمت پر یا بعض بلا قیمت بھی ملیں۔اس طرح سے میری ذاتی لائبریری بن گئی۔ایک دن فرمانے لگے کہ مطالعہ کے دوران جو بات خاص طور پر دل کو اچھی لگے اور خاص اثر ہو وہ نوٹ کرلیا کرو۔پھر قرآن کریم اور تفسیر کبیر سے اور احادیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اور ملفوظات سے اس بات کے حق میں آیات و احادیث و اقتباسات اکٹھے کرلیا کرو اور پھر ان کو ترتیب سے لکھ لو تو مضمون تیار ہو جائے گا پھر اسے جس اخبار یا رسالہ میں مناسب سمجھو چھپنے کے لئے بھجوا دیا کرو۔چنانچہ مضامین لکھنے کی تکنیک آپ نے مجھے سمجھائی اور میں نے الفضل، مصباح، خالد اور تشحیذ میں مضامین لکھنے شروع کر دیئے اور اب تک بہتیرے میرے مضامین اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔یہ مضمون آپ کی راہنمائی کا ہی کرشمہ تھے۔آپ کی ربوبیت سے مجھے خاصا حصہ ملا۔ہر وقت دل سے ان کے لئے دعا نکلتی ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرما دے۔آمین۔تاثرات محررہ مئی 2006 ء۔حاصل کردہ مکرم منیر الدین صاحب شمس)