حیات شمس

by Other Authors

Page 595 of 748

حیات شمس — Page 595

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس میرے محبت کرنے والے ماموں 563 مکرم احمد حسین صاحب در ولیش قادیان) غالباً 1957ء کی بات ہے کہ نا چیز ربوہ ماموں کے گھر ملنے گیا تو ماموں جان کی صحت کے بارہ میں باتیں ہوئیں۔میری ممانی جان صاحبہ نے بتایا کہ ان کی صحت خراب رہتی ہے آرام نہیں کرتے۔دفتر سے چھٹی کے بعد فائلیں لے آتے ہیں اور کام کرتے رہتے ہیں باوجود توجہ دلانے کے آرام نہیں کرتے وغیرہ۔خیر میں اسی وقت ان کے دفتر کی طرف چل پڑا۔چھٹی ہونے والی تھی۔چھٹی ہوئی دیکھا کہ انہوں نے دو تین فائلیں پکڑیں، دفتر بند کیا اور گھر کو چل پڑے میں بھی ساتھ ہی ہولیا۔راستہ میں میں نے عرض کی کہ ماموں جان آپ کی صحت خراب رہتی ہے فائلیں ساتھ کیوں لے چلے ہیں۔دفتر میں ہی کام کر لیا کریں اور گھر میں آرام کیا کریں تو بہتر ہوگا۔نہایت پیار سے مجھے فرمانے لگے۔” احمد حسین آپ یہ بتائیں کہ حضور مجھے کام کرنے کے لئے دیں اور میں کہوں کہ نہیں کرتا ؟ پھر میں خاموش ہو گیا۔مجھے معلوم ہوا کہ ماموں جان ایک بار زیادہ بیمار ہو گئے اور لاہور ہسپتال میں علاج ہوا۔ڈاکٹروں نے فارغ کیا اور ہدایت دی کہ اب آپ نے دو تین ماہ کسی ٹھنڈی جگہ جا کر آرام کرنا ہے کوئی کام نہیں کرناگر آپ آتے ہی ربوہ دفتر حاضر ہو کر کام کرنے لگ گئے۔چند دن بعد لاہور کا ڈاکٹر ربوہ آیا تو حضور سے ماموں جان کی صحت کے بارہ میں بات ہوئی۔ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کو کام سے ابھی منع کیا گیا ہے اور کوئٹہ وغیرہ آرام کیلئے دو ماہ جانے کا کہا ہے۔حضور کو جب یہ علم ہوا تو حضور نے فوراً بھجوا دیا۔مجھے معلوم ہے کہ ہم بہت غریب تھے ماموں جان کی پوزیشن کے مقابل ہم کچھ بھی نہ تھے مگر جب بھی ملتے نہایت محبت پیار سے ملتے پاس بٹھاتے جس کا مجھ پر از حداثر تھا۔چنانچہ 1947ء میں جب درویشی کا زمانہ شروع ہوا۔قادیان میں آخری امیر جماعت ماموں جان ہی تھے۔قادیان میں رہنے کے لئے بہت سے لوگوں نے نام دیئے تھے۔پہلی شفٹ میں رکھنے کے لئے جب قرعہ اندازی ہوئی تو میرا نام جانے والوں میں تھا۔میں ماموں جان سے ملا کہ میں قادیان میں رہنا چاہتا ہوں میرا رہنے کا انتظام کیا جائے۔فرمانے لگے کہ آپ کی قربانی قبول ہو گئی آپ جائیں دو ماہ بعد آجائیں تو میں نے عرض کی ہم غریب آدمی ہیں دوبارہ نہیں آسکیں گے میں قادیان کی آخری حالت دیکھنا چاہتا ہوں جیسے بھی ہو مجھے رکھا جائے۔میرے اصرار پر آپ نے مکرم محمد حیات صاحب کا تب جو حلقہ مسجد مبارک کے نگران تھے ان کو لکھ دیا کہ اگر کوئی جانے والا ہو تو اس کی جگہ احمد حسین کو رکھ لیں۔اس طرح سے