حیات شمس

by Other Authors

Page 593 of 748

حیات شمس — Page 593

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 561 بھی نہیں ہے۔میں نے سارا ماجرا حضرت مولانا شمس صاحب کی خدمت میں عرض کیا اور دعا کی درخواست کی۔آپ نے دعا کرنے کا وعدہ کیا اور ساتھ ہی مجھے ایک قلم عنایت کیا اور تاکید کی کہ شرط یہ ہے کہ اسی قلم سے جملہ پرچے دینا ہوں گے تو ضرور کامیابی ہوگی۔چنانچہ اسی تاکید کے ساتھ وہ قلم میں نے بیٹے کو لا کر دیدیا۔میرے بچے نے اسی قلم سے امتحان دیا۔جب رزلٹ نکلا تو یونیورسٹی میں اس کی پانچویں پوزیشن تھی۔بعد میں اس نے ایم ایس سی بھی کی۔آج میرا بیٹا خدمات سلسلہ بجا لا رہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ حضرت مولوی صاحب کی دعاؤں کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ نہایت اعلیٰ نمبروں سے فائز المرام ہوا۔( تا ثرات حاصل کردہ نومبر 2005 ء ) شفیق و مهربان بزرگ مکرم اقبال احمد نجم صاحب۔مبلغ سلسلہ استاذ جامعہ احمدیہ انگلستان) حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلیٰ درجہ کی جماعتی خدمات پر جماعت کے تین بزرگوں کو خالد احمدیت کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ان تین بزرگوں میں سے ایک آپ بھی تھے۔جس جلسہ سالانہ پر ربوہ میں یہ خطاب آپ کو دیا گیا میں بھی اس میں موجود تھا گو بچہ تھا تبھی سے مجھے یہ خواہش رہی کہ میں ان بزرگوں کے قریب ہوسکوں چنانچہ ان میں سے دو بزرگوں کے قریب ہونے کا مجھے موقعہ ملا۔ایک ان میں سے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس ہیں۔میں باوجود کم عمری کے آپ سے خاصا متاثر تھا، متاثر رہا ہوں۔میری ملاقات آپ سے تب شروع ہوئی جبکہ میرے دادا جان بابو محمد بخش صاحب انبالوی نے وقف بعد از ریٹائر منٹ کیا اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی ڈیوٹی حضرت شمس صاحب کے ساتھ الشركة الاسلامیہ میں لگادی۔ضیاء الاسلام پریس میں آپ کے تحت بطور مینجر کام کرتے رہے اور گولبازار ربوہ میں الشرکتۃ کے دفتر میں بیٹھا کرتے تھے۔1959ء میں میں نے تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ سے میٹرک کیا اور دفتر الشرکتہ میں میرا آنا جانا شروع ہوا جہاں حضرت شمس صاحب سے ملاقات ہو جاتی تھی۔آپ مجھے خاص محبت اور شفقت سے دیکھتے اور توجہ فرماتے اور میں نے آپ کو ایک محبت کرنے والا شفیق و مہربان بزرگ پایا۔آپ کوئی نہ کوئی علمی کام کر رہے ہوتے تھے لیکن اس کے باوجود مجھے آپ کی شفقت حاصل رہتی تھی۔اپنے زمانہ تبلیغ کے حالات سناتے اور فلسطین میں جو آپ نے مباحثات فرمائے ان کا ذکر فرماتے۔آپ نے کہا بیر میں ایک بڑی جماعت بنائی جو آج تک خاصی فعال ہے اور آپ کے لئے ایک صدقہ جاریہ بھی ہے۔میں آپ کی باتوں کو غور سے سنتا اور میرے دل میں یہ جذبات پیدا ہوتے کہ کاش مجھے بھی آپ کی