حیات شمس

by Other Authors

Page 573 of 748

حیات شمس — Page 573

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 541 نمایاں ہیں۔میں اس جگہ یہ ذکر کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اگر چہ خدائی وعدوں کے موافق بلا دعر بیہ میں بھی احمدیت کی ترقی جلد یا بدیر لازما ہوگی لیکن اس کی بنیا در کھنے میں حضرت مولانا شمس صاحب رضی اللہ عنہ نے جو قربانیاں پیش کی ہیں اور جس طرح پوری قوت سے حق جہاد ادا کیا ہے وہ آنے والے مبلغین اور مجاہدین کیلئے مشعل راہ ہے۔میں نے ان سے چارج لینے کے بعد محسوس کیا تھا کہ فی الواقع مولانا نے اپنی جان پر کھیل کر پیغام احمدیت کو ان علاقوں میں پہنچایا تھا اوراللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کے نتیجہ میں آپ کو ایک مخلص جماعت عطا فرمائی تھی۔یہ موقعہ ان خدمات جلیلہ کی تفصیل میں جانے کا نہیں ہے مگر خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شمس صاحب نے بلا عر بیہ میں بھی انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔وہاں کے مخلصین مولا ناشس صاحب کی وفات پر سخت غمگین ہیں۔السید محمد صالح عودہ کے چند فقرات بطور نمونہ درج کرتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں : سیدى اننا حزنا حزناً عميقاً بوفاة استاذنا الفاضل المرحوم جلال الدين شمس المجاهد الاوّل للديار العربية تغمده الله برحمته و أسكنه فسيح جنانه و نرجو لاولاده من بعد طول العمرو البقاء جعلهم الله خير خلف و جزاه عنا احسن الجزاء و رفع مكانه في اعلی علیین۔حضرت مولانا شمس صاحب کو انگلستان میں بھی سالہا سال اسلام کا پرچم لہرانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔عربی زبان کی مہارت اور دینی تفقہ کے باعث وہ مستشرقین اور دیگر اہل علم کیلئے روشنی کا مینار ثابت ہوتے تھے۔ان کی مناظرانہ قوت نے عیسائی پادریوں کو انگلستان میں بھی اسلامی دلائل کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا۔حضرت شمس صاحب اپنے وقت میں اس ملک کیلئے اسلام کے بارے میں اتھارٹی تھے۔آپ کے بیانات اور مضامین نے اسلام کے حق میں فضا سازگار بنانے میں بڑا کام کیا۔عسر و یسر اور جنگ کے ایام میں بھی حضرت شمس صاحب نے نہایت شاندار کارنامے سر انجام دیئے۔جب یہ روحانی سورج بلا د مغرب سے پھر واپس ہوا تو اس آب و تاب سے ہندوستان اور پاکستان کے علاقوں کو احمدیت کی روشن کرنوں سے منور کرنے میں ہمہ تن مصروف ہو گیا۔ایک بہت بڑی خوبی حضرت شمس صاحب میں یہ تھی کہ جو کام آپ کے سپرد کیا جاتا آپ اسے