حیات شمس

by Other Authors

Page 572 of 748

حیات شمس — Page 572

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس مضمون بھی شروع ہو گئے ہیں۔حضرت مولوی صاحب موصوف کی طبیعت بڑی شگفتہ تھی۔جوانی میں تو مسکراہٹ ہر وقت ان کے چہرہ پر کھیلتی تھی۔آخری حصئہ زندگی میں بھی بالعموم ہنس کر بات کرتے تھے۔مولانا شمس صاحب کو علم کا بہت شوق تھا۔مطالعہ بکثرت کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے ذہن بھی نہایت عمدہ عطا فرمایا تھا۔اسلام اور احمدیت کیلئے غیر معمولی غیرت رکھتے تھے۔مخالف کے اعتراض پر خاموش رہنا ان کی طبیعت کے خلاف تھا۔مجھے مدرسہ کی زندگی میں بھی متعدد مقامات پر تقاریر یا مباحثات میں ان کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ان کی جرات اور پُر جوش گویائی قابل داد ہوتی تھی۔مباحثہ میانی کے موقع پر میں ان کے ساتھ تھا۔ان کے تحریری جوابات ، ان کی قوت اقناع اور استدلال پر واضح ثبوت ہیں۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بلا دعر بیہ اور یورپ کے سفر سے واپس آکر مولا نائٹس صاحب کو بطور پہلے مستقل مبلغ کے دمشق بھجوایا۔ان سے پہلے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے شام میں اور حضرت شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے مصر میں تبلیغ احمدیت کی ہے مگر جس طرح ایک با قاعدہ اور مستقل مبلغ کا کام ہوتا ہے وہ بلاد عر بیہ میں محترم مولا نا ئٹس صاحب رضی اللہ عنہ نے ہی سب سے پہلے ادا فرمایا ہے۔دمشق کے قاتلانہ حملہ کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر مولانا شمس صاحب حیفا ( فلسطین) تشریف لے گئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس جگہ آپ کو بہت کامیابی حاصل ہوئی اور مخلصین کی ایک خاص جماعت آپ کے ہاتھ پر سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگئی۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مولانا شمس صاحب کو دستی بیعت لینے کا اختیار دے رکھا تھا۔1931ء میں جب میں نے مولا نائٹس صاحب سے اس مشن کا چارج لیا تو سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مجھے بھی دستی بیعت لینے کا اختیار دیا گیا۔مولا نائٹس صاحب نے شام وفلسطین میں ایسے پاکیزہ اور دائی آثار چھوڑے ہیں جو تاریخ احمدیت کا مستقل حصہ حصہ ہیں۔وہ لوگ مولانا شمس صاحب کو بعد میں بھی نمناک آنکھوں اور دلی دعاؤں کے ساتھ یاد کرتے تھے اور اب تو حضرت مولانا کی وفات کی خبر سے ان میں سے زندہ احمدیوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔جو چند خطوط آئے ہیں ان سے یہ تاثرات 540