حیات شمس — Page 574
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس نہایت تن دہی، محنت اور والہانہ شغف سے سرانجام دیتے۔ملفوظات کی یہ ضخیم جلدوں کی ترتیب اور روحانی خزائن کی یہ دیدہ زیب طباعت اس محنت ، اس محبت اور خلوص کی مونہہ بولتی تصویریں ہیں جو حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن سے تھا۔جزاہ اللہ احسن الجزاء۔542 حضرت مولانا شمس صاحب کو خدمت دین کا ایک نادر اور بے مثال موقعہ سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی بیماری کے عرصہ میں بھی حاصل ہوا اور یہ کہنا ایک حقیقت کا اعلان کرنا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے اس موقعہ پر پورا حق ادا کر دیا۔نظام جماعت کی پختگی اور افراد جماعت کی تربیت کیلئے جو ان کے بس میں تھا انہوں نے کیا۔بسا اوقات ان کی کمزور صحت کے پیش نظر ان کی ہمہ وقت مصروفیت کو دیکھ کر انہیں مشورہ دیا جاتا کہ کچھ آرام بھی کریں اور صحت کا بھی خیال رکھیں تو حضرت مولانا صاحب اپنی معروف مسکراہٹ کے ساتھ یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ کام ختم ہوں تو آرام کیا جائے ابھی تو یہ بھی کرنا ہے وہ بھی کرنا ہے۔حضرت مولانا شمس صاحب کی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں اور ہزاروں واقعات ہیں۔خلاصہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس مرد مجاہد نے نہایت کامیاب زندگی بسر کی اور قابل رشک جہاد کا نمونہ قائم فرمایا۔۔عزیز م محترم شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت احمد یہ کوئٹہ نے جن سے حضرت مولانا کو خاص اُنس تھا، مجھے اپنے تعزیت نامہ میں حضرت مولانا کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ: ' آپ کا مرحوم و مغفور کے ساتھ ایک خاص قسم کا تعلق بھی تھا اور رفاقت حسنہ بھی۔آپ کا ہم سب پر بہت حق ہے کہ اس جلیل القدر متقی، پرہیز گار عالم بے بدل،فقیہہ مفسر قرآن، بایں ہمہ درویش طبیعت اور فقیر طبع دوم، حلیم، شاکر ، صابر، متواضع ہمنکسر المزاج اور دل کے غریب و مسکین خادم دین متین و مبلغ اسلام و احمدیت کی جدائی پر آپ سے بھی دلی تعزیت کریں۔سو میں اس شخص کی وفات پر آپ سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔اس کی وفات موت العالم موت العالم کی مصداق ہے۔“ سید نا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے ہمارے استاذ حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذکر پر 1960ء میں تحریر فرمایا تھا کہ :