حیات شمس — Page 464
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 448 دوسری قوموں کے انبیاء کی صداقت کا اعلان کیا۔اس لئے ہم پر یہ ضروری ہوا کہ ہم خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں پر ایمان لائیں۔پھر میں نے اس آیت کو جو ڈاکٹر ڈڈلی نے پیش کی تھی ، پڑھ کر اس کا ترجمہ کیا اور بتایا کہ اس آیت میں رسولوں کے درمیان تفریق نہ کرنے سے مراد ایمان لانے میں تفریق ہے کہ بعض کو مانا جائے اور بعض کا انکار کیا جائے نہ کہ درجات اور رتبہ کے لحاظ سے۔ڈاکٹر ڈڈلی نے بعد میں مجھے لکھا که مورلی کالج کے پرنسپل نے انہیں لکھا ہے: "To convey to you the thanks of the college for your valuable contribution to last Tuesday's discussion۔" یعنی گذشتہ منگل کی مجلس میں آپ نے حصہ لے کر جو مفید اور قیمتی معلومات بہم پہنچا ئیں اس پر میں کالج کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔اسی طرح World Congress of Faiths میں ایک دفعہ مسلم مشیر وزیر ہند نے اسلام کے موضوع پر تقریر کی اور آیت وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ (اسراء: 60) سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ گو حضرت عیسی وغیرہ نے معجزات دکھائے لیکن آنحضرت ﷺ کا معجزہ صرف قرآن مجید تھا۔نیز آیت انّ الذين امنوا والذين هادوا۔۔۔۔الخ (البقرة :63) سے استدلال کیا کہ اسلام تنگدل مذہب نہیں ہے وہ نجات کے حصول کیلئے آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا ضروری قرار نہیں دیتا۔عیسائی یہودی وغیرہ بھی اگر خدا تعالیٰ پر ایمان رکھیں اور نیک اعمال بجالائیں تو نجات پاسکتے ہیں۔میں نے لیکچر کے اختتام پر کہا کہ معزز لیکچرار کی بیان کردہ باتیں قرآن مجید کے صریح منافی ہیں۔قرآن مجید کی دوسری آیات میں دوسرے نشانات اور معجزات کا بیان ہوا ہے۔چنانچہ معجزہ شق القمر کا ذکر سورۃ القمر میں موجود ہے۔میں نے آیت پڑھ کر سنائی۔اسی طرح بدر کے موقعہ پر جو دو گروہ لڑے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِتَتَيْنِ الْتَقَتَا (آل عمران :14 ) کہ اس میں بھی تمہارے عمران:14) لئے ایک نشان ہے۔اور جس آیت کی طرف معزز سپیکر نے اشارہ کیا ہے، اس آیت میں الآیات سے مراد وہ خاص نشانات ہیں جن کا کفار مطالبہ کرتے تھے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہمیں یہ مخصوص آیات دکھانے سے صرف یہ بات مانع ہوئی ہے کہ پہلوں کے مطالبہ پر جب نشانات دکھائے گئے تو انہوں نے تکذیب کر دی جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گئے۔اسی طرح اگر ان کفار کو بھی ان کے مطلوبہ معجزات دکھائے جائیں تو موجودہ حالت میں یہ بھی تکذیب پر مصر رہیں گے نتیجہ ان کی ہلاکت و تباہی ہوگی لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ اکثر ان میں