حیات شمس — Page 465
حیات ٹمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 449 سے آخر کار اسلام لے آئیں گے اس لئے انہیں ہلاکت سے بچانے کیلئے وہ معہودہ نشانات خدا نے نہ دکھائے۔دوسرے امر کے بارہ میں میں نے کہا کہ قرآن مجید کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر کوئی نجات نہیں پاسکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيْدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا۔۔۔۔۔أُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَاباً مُهِيناً ) (النساء:151-152) یعنی وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسولوں کے منکر ہیں اور وہ جو خدا اور اس کے رسولوں میں تفریق کرتے ہیں اور وہ جو بعض کو مانتے اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ جو ان کے درمیان راستہ اختیار کرتے ہیں یہ سب پکے کافر ہیں۔اس آیت کی موجودگی میں یہ کہنا کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر نجات مل سکتی ہے۔نجات کے حصول کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ایسے ہی ضروری ہے جیسے کہ حضرت عیسی اور دوسرے انبیاء پر اور آیت ان الذين امنوا والذين هـــادوا۔۔الخ کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو سپیکر نے لیا ہے۔ایسا مطلب لینا قرآن مجید کی دوسری آیات کے صریح منافی ہے۔انجیل و قرآن مجید کی تعلیم کا مقابلہ ہائیڈ پارک کے مباحثات اور لیکچروں میں سے میں ایک دو باتیں بطور مثال پیش کرتا ہوں۔میں نے سب پادریوں کو چیلنج دے رکھا تھا کہ کوئی ان میں سے بائیبل سے ایسی تعلیم پیش کرے جو اس کے نزدیک سب سے اعلیٰ ہو میں اس سے بہتر قرآن مجید سے پیش کروں گا۔ایک روز ایک پادری نے مجھے مخاطب کر کے نہایت وثوق اور یقین سے کہا کچھ بھی ہو مسیح نے پہاڑی وعظ میں جو تعلیم دی ہے وہ سب تعلیموں سے اچھی اور اعلیٰ ہے۔میں نے اس معترض کو وہی جواب دیا جو میں نے مناظرہ میں ایک پادری کو دیا تھا یعنی یہ کہ قرآن مجید کی تعلیم اس پہاڑی وعظ سے بہت زیادہ اچھی اور مکمل ہے۔آپ پہاڑی وعظ میں سے کوئی تعلیم پیش کریں میں اس سے بہت اعلیٰ تعلیم قرآن مجید سے پیش کروں گا۔اس پر اس نے کہا مسیح نے یہ تعلیم دی ہے: اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خون نہ کر اور جو کوئی خون کرے گاوہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنے بھائی پر بغیر سبب کے غصے ہوگا وہ عدالت کی سزا کے لائق ہوگا۔“