حیات شمس

by Other Authors

Page 424 of 748

حیات شمس — Page 424

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 408 کے انبیاء پر ایمان لانے کو فرض قرار دیتا ہے۔یہ ایک ایسی خوبی ہے جو کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی ہے۔22 جون کے خطبہ میں آپ نے نجات کے متعلق بیان کرتے ہوئے کفارہ کی ترید کی اور بتایا کہ نجات کے حصول کیلئے انسان کو کامل تعلیم اور کامل نمونہ کی ضرورت ہے لیکن عیسائیت کوئی کامل نمونہ پیش نہیں کرتی ہے۔انا جیل میں مسیح کے اڑھائی تین سال کے ہی حالات پیش ہیں نہ ان کے بچپن کے حالات کا ہی علم ہے اور نہ ہی وہ شادی شدہ تھے اس لئے وہ کامل نمونہ نہ تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام حالات قلمبند ہیں۔اسلامی تعلیم کے کمال کو ثابت کرنے کیلئے آپ نے آیت إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْأَحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى (الحل: 91) کی تفسیر بیان کی اور ہمارے احمدی نوجوان کے والد کرنل مسٹر کوخ نے چوہدری صاحب کو اپنے مکان پر جانے کیلئے دعوت دی آپ نے انہیں بھی عقائد احمدیت سے بالتفصیل آگاہ کیا۔بعض اشخاص سے مذہبی گفتگو متعدد اشخاص سے مذہبی گفتگو ہوئی ان میں قابل ذکر مندرجہ ذیل اشخاص ہیں۔مسٹر ظفر اللہ کوخ اپنے ساتھ ایک ڈچ کو لائے جو کمیونسٹ خیال کا تھا۔دوران گفتگو میں اسے اسلامی تعلیمات کا اقرار کرنا ہی پڑا۔ایک اور ڈچ نوجوان کو ہائیڈ پارک میں مباحثہ سنے کیلئے لائے جو بعد میں دومرتبہ پھر دار التبلیغ آیا۔اب مسٹر ظفر اللہ کوخ لنڈن سے کوئی بیس میل کے فاصلہ پر چلے گئے ہیں۔ایک اتوار کو آئے اور اپنے ساتھ ایک کیتھولک نو جوان کو لائے اس سے تثلیث وغیرہ مسائل پر گفتگو ہوئی تثلیث کے بارہ میں کہا یہ ہماری سمجھ سے بالا ہے۔میں نے کہا بے شک ماوراء الطبیعات ایسی باتیں ہیں جس کی ہماری عقول احاطہ نہیں کر سکتی ہیں لیکن یہ بات کہ تین ایک ہے اور ایک تین ہے یہ عقل اور تجربہ کے خلاف ہے عقل سے بالا نہیں ہے۔اگر کہو کہ خدا نے ایسا کہا ہے اس لئے آپ ایمان لاتے ہیں تو یہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ انا جیل اربعہ میں تثلیث کا لفظ تک موجود نہیں ہے۔پھر اس نے جنگ کے متعلق دریافت کیا تو میں نے کہا کہ اسلام نے دفاعی جنگ کو جائز رکھا ہے اس نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے۔میں نے کہا کہ عیسائی عقیدہ تو جائز نہیں سمجھتے ہیں تمام قو میں تو عمل اسلام کی تعلیم پر کرتی ہیں لیکن ڈھول عیسائیت کا پیٹ رہی ہیں۔دوسری دفعہ جب مسٹر ظفر اللہ کوخ آئے تو کہنے لگے کہ وہ تو اب مذہبی گفتگو ہی نہیں کرتا ہے کیونکہ وہ تو عقل کو استعمال ہی نہیں کرتا ہے۔میں نے کہا گو اس نے یہ طریق اختیار کیا ہے لیکن ہماری گفتگو کی یاد ہمیشہ اس