حیات شمس — Page 425
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 409 کے دل میں اضطراب پیدا کرے گی اور وہ سوچا کرے گا کہ اس کا مذہب کس قدر کمزور ہے۔مسٹر زعیم احمد سائپرس کے ایک نوجوان جو کہ ایک سٹوڈنٹ ہیں ، وہ تین دفعہ آئے انہوں نے کہا کہ وہ احمدیت کے اصول تسلیم کرتے ہیں۔اسی طرح مسٹرسٹن اور مسرور کمین دو انگریز مختلف اوقات میں آئے اور اسلام کے متعلق مختلف معلومات حاصل کیں کہ ہمیں مطالعہ کیلئے کتا بیں دیں۔ان کے علاوہ چند احمدی دوست تشریف لائے جو جرمنی میں قیدی رہ چکے تھے۔حوالدار فضل حسین صاحب سید والہ، پیرمحمد صاحب گجرات، طالب حسین صاحب مہمت پوره سید زین العابدین شاہ صاحب گجرات ، میاں عبد الرحیم صاحب کے صاحبزادے عبدالستار صاحب تشریف لائے۔ان کے ساتھ چند غیر احمدی دوست بھی تھے جنہوں نے سوالات بھی دریافت کیے۔یہ سب ہندوستان کو روانہ ہو چکے تھے۔اسی طرح پلندری پونچھ کے سردار ایوب خان تشریف لائے اور خاتم النبیین کی آیت کی تفسیر دریافت کی اور چند سوالات بھی پوچھے اور جوابات کے متعلق انہوں نے تسلی کا اظہار کیا۔ایام زیر رپورٹ میں ایک مسٹر جان فرینک نے اسلام قبول کیا وہ جب آئے تو انہوں نے کہا سب سے بڑا سوال جس کے نہ معلوم ہونے کی وجہ سے دل کو بیقراری تھی کہ یسوع مسیح جب انسان تھے تو قبر سے نکلنے کے بعد کہاں گئے اور میں نے اس کا تسلی بخش جواب دیا اور احمدیت اور عام مسلمانوں کے خیال کا بھی مقابلہ کر کے سنایا۔میرا جواب سن کر انہوں نے کہا کہ اب میری تسلی ہوگئی۔کتا ہیں اور بیعت فارم ساتھ لے گئے۔بعد میں بیعت فارم پُر کر کے بذریعہ ڈاک بھیج دیا۔خاکسار جلال الدین شمس۔(الفضل قادیان 17 جولائی 1945ء) مسیح کی صلیبی موت پر مباحثہ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں۔6 جولائی 1945ء کو مسٹر گرین کی خواہش پر حضرت مسیح کی صلیبی موت پر مباحثہ ہوا اور میں نے مسیح کی صلیبی موت سے بچنے کے بارہ میں انا جیل سے چھ حوالے پیش کیے جن میں سے وہ کسی ایک کا بھی جواب نہ دے سکے۔دوران بحث اس نے کہا کہ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ وہ مریگا پھر جی اٹھے گا اور بعض مسلمانوں نے کہا He was crucified کہ وہ مصلوب ہو گیا تھا۔میں نے کہا کسی ایک شخص کو تر جمہ یا تفسیر کا حق ہے لیکن ایک خلاف واقعہ بات اپنے پاس سے بنا لینا کسی طرح ایک مذہبی آدمی کو زیب نہیں۔میں نے کہا