حیات شمس

by Other Authors

Page 408 of 748

حیات شمس — Page 408

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 392 سوالات کے موقعہ پر جب ایک شخص نے جنگوں کے متعلق اعتراض کیا تو میں نے کہا یسوع مسیح نے آسمانی بادشاہت کی مثال بیان کرتے ہوئے خود ظالموں کے قتل کو جائز قرار دیا ہے۔انہوں نے آسمانی بادشاہت کی ایک بادشاہ سے مثال دی ہے جس نے اپنے لڑکے کی شادی پر لوگوں کو کھانے کیلئے دعوت دی مگر انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔اس نے پھر اپنے نو کر بھیجے مگر پھر انہوں نے انکار کیا اور بعض تو اپنے کاموں پر چلے گئے اور جو باقی رہ گئے انہوں نے ان پیغام رسانوں کو قتل کر دیا۔تب بادشاہ نے اپنی فوج بھیجی اور ان قاتلوں کو تہ تیغ کیا اور اس مثال میں بادشاہ سے مراد خدا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظالم حملہ آوروں سے جنگ کرنا اس مثال کی رو سے بالکل جائز تھا۔مباحثات کے اختتام پر بعض امریکن افسروں سے گفتگو ہوئی اور انہیں لٹریچر بھی دیا گیا۔19 مئی کو مسٹر گرین نے بیماری کا عذر کیا۔اس لئے اس روز مسٹر عبد العزیز صاحب اور میر عبدالسلام صاحب نے تقریریں کیں اور سوالات کے جوابات دئے۔آخر میں میں نے چند سوالات کے جوابات دئے۔ایام زیر رپورٹ میں مسٹر ہیرس اور مسز سائس آئے ان سے مذہبی گفتگو ہوئی اور لٹریچر بھی مطالعہ کیلئے دیا گیا۔اسی طرح ایک جرمن عورت آئی جو ایک سیلیونی مسلمان کی بیوی تھیں اور بیس سال ہوئے پہلے بھی مسجد آئی تھیں۔مسٹر ٹامس اور مس ٹامس جو پہلے مسجد میں آئے تھے انہوں نے لکھا ہے کہ وہ پھر کسی روز آئیں گے اور یہ کہ انہوں نے اپنے دوستوں سے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ یسوع مسیح کی قبر ہندوستان میں ہے اور وہ سن کر بہت متعجب ہوئے۔وزرائے اعظم کو لٹریچر بطور تحفہ مسٹر جان کرسٹن پرائم منسٹر آف آسٹریلیا اور فیلڈ مارشل سمٹس ساؤتھ افریقہ اور مسٹر میکنزے کنگ کینیڈا ایک کانفرنس میں شمولیت کیلئے لنڈن تشریف لائے۔جب کانفرنس ختم ہوگئی تو ان سے خطوط کے ذریعہ دریافت کیا گیا کہ اگر وہ ملاقات کیلئے وقت دے سکیں تو میں انہیں ایک کتاب بطور تحفہ دینا چاہتا ہوں اور نہ بذریعہ ڈاک بھیج دی جائے گی۔فیلڈ مارشل سمٹس کے پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے جواب ملا۔وہ پسند تو یہی کرتے تھے کہ اپنے ہاتھ سے کتاب لیتے لیکن کام کی کثرت کی وجہ سے ملاقات کیلئے وقت دینا ناممکن ہے اس لئے انہیں تین کتابیں احمدیت ” تحفہ پرنس آف ویلز اور اسلام بذریعہ ڈاک بھیج دی گئیں۔ہائی کمشنر کینیڈا کا بھی اسی کے مطابق جواب ملا۔انہیں بھی بذریعہ ڈاک کتب بھیجی