حیات شمس — Page 407
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس پہاڑی وعظ کا قرآن مجید کی تعلیم سے مقابلہ 391 دوسرا مباحثہ 12 مئی کو ہوا۔موضوع مباحثہ پہاڑی وعظ کا قرآن مجید کی تعلیم سے مقابلہ تھا لیکن اصل موضوع پر بحث شروع کرنے سے پہلے مسٹر گرین نے قرآن مجید سے کفار کے قتل کے متعلق آیات پڑھیں۔میں نے انہی آیات سے ثابت کر دیا کہ ان میں قتل کا حکم ان کافروں کے متعلق ہے جو میدان جنگ میں لڑنے کیلئے آئے اور پہلے حملہ آور ہوئے۔غرضیکہ اسلام دفاعی جنگ کو جائز قرار دیتا ہے اور آج تمام مہذب اقوام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم کی پیروی کر رہی ہیں اور عیسائیت کی تعلیم کی اپنے عمل سے پر زور تردید کر رہی ہیں۔عقل مند اقوام ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کی پیروی کریں گی۔مسٹر گرین نے پہاڑی وعظ سے صرف یہ بات پیش کی : تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا اپنے پڑوسی سے محبت رکھ اور اپنے دشمن سے عداوت لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ اپنے دشمن سے محبت رکھو اور اپنے ستانے والوں کیلئے دعا مانگو اور کہا کہ یہ سب تعلیموں سے افضل تعلیم ہے۔میں نے قرآن مجید سے ہمسایہ سے محبت اور دشمنوں سے نیک سلوک کی تعلیم بیان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل سوالات کئے : ا۔یہ قول کہ کہا گیا تھا کہ دشمن سے عداوت رکھو۔کسی جگہ پرانے عہد نامہ میں مذکور نہیں ہے۔۲۔انسانوں کا سب سے پہلا اور بڑا دشمن شیطان ہے۔کیا شیطان سے محبت رکھنی چاہیے؟۔یسوع مسیح نے اس کے خلاف خود کہا: اگر کوئی میرے پاس آئے اور اپنے باپ اور ماں اور بیوی اور بچوں اور بھائیوں اور بہنوں بلکہ اپنی جان سے بھی دشمنی نہ کرے تو میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔جو لفظ دشمن کا پہلے قول میں مذکور ہے بعینہ وہی لفظ اس جگہ استعمال ہوا ہے گویا مطلب یہ ہوا کہ اپنے بچوں اور بھائیوں اور بہنوں سے دشمنی رکھو مگر دشمنوں سے محبت۔۴۔ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کہاں تک یسوع مسیح نے خود اس اصل پر عمل کیا۔اس پر میں نے ان کے سخت الفاظ کا ذکر کیا جو انہوں نے فقیہوں اور فریسیوں کے متعلق استعمال کئے۔وہ ان سوالوں میں سے کسی ایک کا بھی جواب نہ دے سکے۔