حیات شمس — Page 396
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس ہوئی۔اس نے دو کنگ کا بھی ذکر کیا۔میں نے احمدی اور غیر احمدی میں فرق بتایا کہ دوسرے مسلمان اور دیگر مذاہب بیماری کی تو چیخ و پکار کرتے ہیں لیکن ساتھ کہتے ہیں کہ آج کوئی نبی اور مصلح نہیں آسکتا۔لیکن احمدی کہتے ہیں کہ خدا نے معالج بھیج دیا ہے۔وہ کتابوں کا مطالعہ کر رہی ہے۔مسٹر اور مسز جمال بھی آئے جن سے مذہبی گفتگو ہوئی۔(۳) حضور کا خطبہ متعلقہ تحریک جدید سال دہم سنایا گیا۔46 پونڈ کے اور وعدے ہوئے۔(۴) ناصر احمد سکرونران چار نوجوانوں میں سے ایک ہیں جو ڈیڑھ سال ہو اداخل اسلام ہوئے تھے۔داخل ہونے کے بعد وہ ائیر فورس میں شامل ہو گئے تھے اس لئے چند مرتبہ ہی میرے پاس آسکے۔وہ اب اسکندریہ میں ہیں۔انہیں دوستوں کے پتے بھیج دیئے تھے۔وہ خط ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہاں لوگوں کو احمدیت سے ہمدردی نہیں ہے لیکن جواب میں دے لیتا ہوں لیکن دیہاتی ایسی مخالفت نہیں کرتے وہ مصر کے دوستوں سے جا کر ملیں گے۔وہ مسجد اور احمدیت کا ذکر لوگوں سے کرتے ہیں۔380 (۵) ڈاکٹر نذیر احمد صاحب اور ان کے بھائی بشیر احمد صاحب ( پسران حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب مہر سنگھ یکے از اصحاب تین سو تیرہ) نے عدن سے انگریزوں کے دینے کیلئے لٹریچر طلب کیا تھا جو انہیں بھیجا گیا۔کل رات کو دو بجے صبح بہت سخت ائیر ریڈ ہوئی۔اینٹی ائیر کرافٹ گنز بھی غیر معمولی طور پر فائر کر رہی تھیں۔ہمارے علاقہ میں کئی بم گرائے گئے۔بعض تو چند سو گز کے فاصلہ پر پڑے جن سے مکان ایسے لرزتا تھا کہ گویا گرنا چاہتا تھا لیکن محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔تین چار جگہ آگ لگی۔اتنی بلند تھی کہ سارے علاقے میں روشنی تھی میں نے خود جا کر انہیں دیکھا سڑکیں ٹوٹے ہوئے شیشے سے پر تھیں۔بہت سی اموات ہوئیں۔جب سے ہوائی حملے شروع ہوئے ہمارے علاقہ میں کوئی نقصان نہ ہوا تھا۔حضور سے دعا کیلئے عاجزانہ درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے۔کیونکہ اس کے سوا کوئی اور بچانے والا نہیں۔آمین۔الفضل قادیان 4 اپریل 1944 ، صفحہ 2)