حیات شمس — Page 397
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 9966 ، 381 شاہ البانیہ سے ملاقات دسمبر 1943ء میں کنگ زوغوشاہ البانیہ سے جو لندن سے چھپیس میل کے فاصلہ پر رہتے ہیں ، ملنے کیلئے میں گیا۔انگلستان میں مساجد، مسلم اتحاد اور احمدیہ موومنٹ کے متعلق ایک گھنٹہ کے قریب ان سے گفتگو ہوئی۔” احمدیت حقیقی اسلام ہے اسلامی اصول کی فلاسفی کا فرانسیسی میں ترجمہ اور ”اسلام“ کتابیں انہیں بطور تحفہ پیش کی گئیں جو انہوں نے بخوشی قبول کیں۔ان کی ہمشیرہ کو جو پہلے مسجد احمدیہ میں تشریف لائی تھیں ایک حمائل قرآن شریف کی بطور تحفہ دی گئی۔مسلم اتحاد کے متعلق انہوں نے کہا کہ میرا مقصد یہ ہے کہ مذہبی لحاظ سے اتحاد ہو پولیٹیکل امور میں بے شک مختلف رہیں۔میں نے کہا مذہبی لحاظ سے اتحاد سے کیا آپ کی یہ مراد ہے کہ شیعہ اپنے مخصوص اعتقادات چھوڑ کر اتحاد کی خاطرسنی بن جائیں یا سنی شیعہ بن جائیں ؟ اگر یہ مراد ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک فریق اپنے معتقدات کی غلطی سمجھے بغیر اپنے معتقدات چھوڑ کر دوسرے فریق کے معتقدات کو اختیار کرلے گا۔تھوڑے سے وقفہ کے بعد انہوں نے جواب دیا کہ یہ واقعی بہت مشکل ہے۔پھر میں نے اس تجویز کا ذکر کیا جو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانان ہند کے سلسلہ میں 1927ء یا 1928ء میں پیش فرمائی تھی کہ ہر فرقہ بے شک اپنے مخصوص اعتقادات رکھے لیکن اقتصادیات اور دیگر معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اعتقادی اختلاف کو آپس میں دشمنی کا سبب نہ بنا ئیں۔احمد یہ جماعت کے متعلق میں نے بتایا کہ اس کے بانی مسیح موعود اور مہدی ہیں جن کی آمد کی تمام مسلمان انتظار کر رہے تھے۔انہوں نے پوچھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟ میں نے کہا ہمارا مذہب اسلام ہے ہم حنفی شافعی وغیرہ کسی فرقہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہیں کرتے۔ہماری جماعت میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے لوگ داخل ہوتے ہیں۔پہلے ان میں سے کوئی شیعہ تھا، کوئی سنی کوئی وہابی، کوئی حنفی اور شافعی۔غرضیکہ احمد یہ جماعت میں مختلف فرقوں کے لوگ ایک بن جاتے ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ مجھے آپ کی ملاقات سے بہت خوشی ہوئی ہے اور بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئی ہیں۔ناٹنگھم میں لیکچر 29 دسمبر بروز اتوار میں نا تھم گیا۔برادرم عبدالعزیز بھی ساتھ تھے۔ناٹنگھم کاسمو پوٹین ڈیبیٹنگ سوسائٹی نے اپنے مطبوعہ پروگرام میں میرے لیکچر کا اعلان کیا تھا۔لیکچر گاہ یو نیورسٹی ہال تھا۔چونکہ انفلوئنزا