حیات شمس

by Other Authors

Page 395 of 748

حیات شمس — Page 395

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 379 وغیرہ کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ ان پر ہنستے ہیں اس لئے میری نصیحت یہ ہے کہ ایسی باتوں کو پیش نہ کیا جائے۔میں نے کہا مخالفوں کی ہنسی سے ڈر کر حقائق کو چھوڑ نا کیا عقلمندی ہے۔پہلے سب لوگوں نے کب انبیاء کے الہامات اور خوابوں کو مان لیا تھا۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت کفار نے یہ نہ کہا۔بل قالوا أَضْغَاتْ اَحْلامِ که یه تو پراگندہ خوا میں ہیں اور ہود علیہ السلام کی قوم نے کہہ دیا۔ان هذا الا خلاق الأوَّلِينَ۔پھر سوچ کر انہوں نے کہا۔اضغاث احلام تو سورہ یوسف میں فرعون مصر کی خواب کے متعلق آیا ہے میں نے کہا سورۃ انبیاء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد کے کفار کا قول مذکور ہے۔پھر میں نے کہا خواب سے اوپر کشف پھر الہام اور مکالمہ الہیہ کا درجہ ہے۔یہ لوگ سب کا انکار کرتے ہیں۔پھر آپ قرآن مجید کو بھی چھوڑ دیں ان کی ہنسی سے ڈر کر کس چیز کو آپ ان کے سامنے پیش کریں گے نیز سب سے پہلے مذہب کا مقصد اور تعریف معین کرنی چاہیے اگر مذہب سے مراد خدا تعالیٰ تک پہنچنے اور اس کے قرب کے حصول کا راستہ ہے تو پھر قرب الہی کی کوئی علامت بھی ہونی چاہیے اور اس دنیا میں سوائے رویائے صالحہ، کشوف اور مکالمہ الہیہ کے کوئی نہیں ہوسکتی۔وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکے۔(۲) عیدالاضحی حسب معمول منائی گئی۔ہولٹن پریس ایجنسی نے مڈل ایسٹ پریس کو رپورٹ بھیجی۔لنڈن پریس میں بھی شائع ہوئی۔صوبیدار سلیم اللہ صاحب سکاٹ لینڈ سے عید میں شامل ہوئے۔چوہدری عبدالہادی صاحب احمدی سکنہ پنڈوری ضلع کیمبل پور مسجد دیکھنے کیلئے آئے۔چوہدری محمد اشرف صاحب بھی تشریف لائے۔الفضل قادیان 4 فروری 1944ء) مکتوب بنام سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی حضرت مولانا شمس صاحب نے 29 فروری 1944ء کو حضور کی خدمت میں حسب ذیل مکتوب ارسال کیا: سیدی و مولائی حضرت امیر المومنین اید کم اللہ بنصرہ العزیز السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ایک بڑھیا عورت نے لکھا تھا کہ اسلام سے اسے دلچسپی ہے۔ڈاکٹر سلیمان کو میں نے اس کے پاس بھیجا تھا۔انہوں نے جا کر اس سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ وہمی سی ہے اور اسے بعض تکالیف بھی پہنچی ہیں جن کی وجہ سے اس کے دماغ پر بھی اثر ہے۔اسے لٹریچر بھی بھیج دیا گیا تھا۔(۲) مسز لمیسیر میرو ایک ساؤتھ افریقن عورت بھی دو دفعہ آئی۔اس سے اسلام کے متعلق گفتگو