حیات شمس

by Other Authors

Page 383 of 748

حیات شمس — Page 383

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 367 کے شایان ہے جیسا کہ مسلمان حضرت مسیح کو عزت کے ساتھ یاد کرتے ہیں تو اس سے عیسائیوں اور مسلمانوں کے تعلقات زیادہ مضبوط ہو سکتے ہیں۔مسجدوں میں خدا کی عبادت کی آزادی کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا بھی ذکر کیا اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کا اعلان بھی سنایا جوحضور نے مسجد لنڈن کا سنگ بنیا در کھتے ہوئے کہا تھا۔میٹنگ کے ختم ہونے پر امرتسر کا ایک ڈاکٹر ملا جس نے شیفیلڈ میں شادی کی ہوئی ہے اور مضمون پر خوشی کا اظہار کیا۔پھر چیکوسلوا کیا کا ایک عیسائی ملا اور کہا کہ ہمیں تو اسلامی تعلیم کا بالکل پتہ ہی نہیں ہے انگریز تو سنتے رہتے ہیں جب لنڈن آؤں گا تو ضرور ملوں گا۔سر فرانسیس نے واپس آکر اپنے خط میں مجھے لکھا: Your address was much appreciated۔وہاں جو کانگرس کی شاخ قائم ہوئی اس کیلئے سلسلہ کی کتب دی گئیں اور ڈاکٹر وڈ کو بھی ان کے مطالبہ پر لنڈن واپس آکر بھیجیں۔انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ جب لنڈن آئیں گے تو ضرور ملیں گے۔اس سال لوگوں کی جنگی کاموں میں مشغولیت اور دودھ، چائے، چینی وغیرہ اشیاء کے راشن ہونے کی وجہ سے دار التبلیغ میں حسب دستور سابق لیکچروں کا جاری رکھنا سخت مشکل ہے تا ہم ایام زیر رپورٹ میں تین میٹنگز کی گئیں۔پہلی میٹنگ میں تین نئے احمدی نوجوان انگریزوں نے اپنے اسلام اختیار کرنے کے وجو ہات بیان کئے۔دوسری میٹنگ میں میر عبدالسلام صاحب نے نئے نظام کے موضوع پر تقریر کی۔بعد میں سوال و جواب ہوئے۔میں نے میر صاحب کی تقریر کا خلاصہ ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کا ایک صفحہ پڑھ کر سنایا۔دو عورتیں نئی آئی تھیں میٹنگ کے بعد ان سے دو گھنٹہ تک توحید باری تعالیٰ اور حضرت عیسی کے متعلق گفتگو ہوئی۔ایک تو سن کر حیران ہوگئی اور کہا کہ مجھے آج تک ان باتوں کا پتہ ہی نہیں۔دوسری کہنے لگی میں تو Atheist ہوں اپنے مکان پر جا کر ایک نے انجیل پڑھنی شروع کی اور کہا کہ انجیل پڑھنے کے بعد پھر دوبارہ گفتگو شروع کروں گی۔الفضل قادیان 27 ستمبر 1942ء) ہائیڈ پارک میں سوال وجواب [ اکتوبر 1942ء میں] متعدد مرتبہ ہائیڈ پارک میں جا کر عیسائی لیکچراروں پر سوالات کئے گئے۔ایک