حیات شمس — Page 371
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 355 برطانیہ کی مدد کرے گی تو اس کی اطلاع بذریعہ خطوط یہاں کے ارکان حکومت اور بعض ریٹائرڈ گورنرز وغیرہ کو دی گئی جس کے جواب میں انہوں نے اپنے خطوط میں جماعت احمدیہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا نیز بادشاہ کی طرف سے بھی ہوم سیکرٹری نے ان کا اس پیغام پر شکریہ اور خوشنودی کا اظہار تحریر کیا۔مسٹر ایٹلی اپوزیشن کے لیڈر کو کتب بھیجی گئیں جن کے پڑھنے کا انہوں نے وعدہ کیا۔نیز بعض اور لوگوں کو بھی کتب اور ٹریکٹ بھیجے گئے۔سال زیر رپورٹ میں ایک دفعہ کا رڈف گیا۔چوہدری محمد نقی صاحب میرے ہمراہ تھے۔وہاں یمن اور صومالی لینڈ کے بہت سے عرب ہیں ان سے گفتگو ہوئی اور ایک مولود شریف کے موقعہ پر انہوں نے مجھے سے تقریر کیلئے درخواست کی۔چنانچہ عربی میں تقریر کی گئی جس کا ان پر اچھا اثر ہوا۔وہاں کے ہندوستانیوں سے بھی سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوئی دوسرا سفر شمالی انگلستان کا کیا۔نیوکیسل گیا وہاں ایک ہفتہ ٹھہرا۔کالج کے ہندوستانی طلبا سے گفتگو ہوئی نیز دوسرے ہندوستانیوں سے بھی سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوئی۔وہاں سے ساؤتھ شیلڈ گیا جہاں عربوں اور ہندوستانیوں سے گفتگو ہوئی۔نیز ہولی لینڈ اور سنڈرلینڈ بھی گیا۔لنڈن واپس آنے پر جن لوگوں سے ملاقات ہوئی تھی انہیں لٹریچر بھیجا گیا۔امسال مندرجہ ذیل اشخاص اسلام قبول کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے : (1) مسٹر خالد ڈکنسن (۲) مس جمیلہ ڈکنسن (۳) مسز ایڈٹ (مبارکه) احمد (۴) مسٹر عثمان سٹن (۵) چوہدری عبد العزیز صاحب سٹوڈنٹ لنڈن یونیورسٹی۔مسٹر عثمان سٹن پولیس میں ہیں، ان کے لڑکے منیر احمد سٹن گذشتہ سال سلسلہ میں داخل ہوئے تھے۔مسٹر عثمان سٹن مسجد کے قریب رہتے ہیں اور جماعت کے کاموں میں خوشی سے حصہ لیتے ہیں اور شوق سے چندہ دیتے ہیں۔خاکسار : جلال الدین شمس امام مسجد لنڈن۔(الفضل قادیان یکم دسمبر 1940ء) عید الاضحی کی تقریب عید الاضحی لنڈن میں 8 جنوری 1940 ء کو منائی گئی۔برف پڑی ہوئی تھی شدت کی سردی تھی لیکن پھر بھی حاضری کافی ہو گئی۔بیرونی مقامات سے بھی بعض دوست تشریف لائے مثلاً الحاج ڈاکٹر یوسف سلیمان اور الحاج ڈاکٹر عمر سلیمان نیو کیسل سے جو لنڈن سے 275 میل کے فاصلہ پر ہے اور میاں محمد