حیات شمس

by Other Authors

Page 360 of 748

حیات شمس — Page 360

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 344 پیش نہ کرے یا پیش کر کے اس کا فیصلہ ماننے سے انکار کرے اور لڑائی پر تل جائے تو دوسری سب قومیں مل کر اس کا مقابلہ کریں۔یہ تو صاف ظاہر ہے کہ ایک قوم خواہ کتنی بھی طاقتور کیوں نہ ہوسب قوموں کی متحدہ افواج کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور جلد ہی اس کو ہار ماننی پڑے گی۔جب ایسی قوم ہار مان لے اور مجلس اقوام کا فیصلہ ماننے کیلئے تیار ہو جائے تو پھر ان دونوں قوموں کے درمیان انصاف کا فیصلہ کر دیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو انصاف ہی پسند ہے۔اس ضمن میں قرآن مجید کے الفاظ مجالس کا ایک وسیع نظام پیش کرتے ہیں۔اگر اسلام کے احکام کے مطابق تمام اقوام کو آزادی دے دی جاوے تو ایک بڑی تھی حل ہو جاوے گی۔مثال کے طور پر ہندوستان ہی کو لے لیجئے اس میں چودہ صوبے اور متعد دریاستیں ہیں۔اس ملک کی انہی اصول پر ایک مجلس ہند بنائی جاسکتی ہے۔اپنے صوبائی سوالات کے حل کیلئے ہر ایک صوبہ آزاد ہونا چاہئے اور جملہ صوبوں کے نمائندوں کی ایک مجلس ہند بنائی جائے جو مجلس اقوامِ عالم میں اپنے نمائندے بھیجے۔اسی طرح ہر ملک اپنی اپنی مجلس بنا لیوے اور مجلس اقوام عالم میں اپنے نمائندے بھیجے۔یہ مجلس اقوام عالم گو یا تمام دنیا کی مرکز ہوگی۔1924ء میں حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ نے جو جماعت احمدیہ کے موجودہ امام ہیں، قرآن مجید سے جمعیت الاقوام کی حقیقی شکل بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب ” احمدیت یعنی حقیقی اسلام“ میں تحریر فرمایا تھا کہ موجودہ جمعیت الاقوام غلط اصول پر بنائی گئی ہے۔قرآن مجید نے جس قسم کی جمعیت الا قوام کا نقشہ بیان کیا ہے، وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو یورپ میں بنائی گئی ہے۔آپ نے اس وقت یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ جب تک موجودہ جمعیت الاقوام کی اصلاح نہ ہوگی اور اسے قرآنی اصول پر نہ بنایا جائے گا تب تک دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔جمعیت الا قوام کی ترکیب اساسی کے متعلق قرآن مجید کا بیان کردہ اصول یہ ہے کہ ظالم کا ہاتھ روکا جائے اور مظلوم کی امداد کی جائے۔اپنی کتاب میں آپ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ جمعیت الا قوام نے جرمنی کے بعض مقبوضات کو اس سے چھین کر دوسروں کے حوالہ کرنے میں قرآن مجید کے بتائے ہوئے اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔آپ نے واضح طور پر بتایا تھا کہ چونکہ یہ قرآنی تعلیم کے خلاف کیا گیا ہے اس لئے دنیا میں امن قائم نہ ہو سکے گا۔پھر جمعیت الاقوام اس بات کی قائل نہیں ہے کہ اپنے فیصلوں کو فوجی طاقت کے ذریعہ نافذ کرے۔اس کے متعلق بھی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ نے فرمایا تھا کہ یہ غلط اصول ہے۔قرآن مجید فرماتا ہے کہ فوجی طاقت کے بغیر کوئی لیگ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتی اور آج چودہ سوسال بعد یہ