حیات شمس

by Other Authors

Page 359 of 748

حیات شمس — Page 359

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 343 مطیع کر لے کیونکہ یہ عین ممکن ہے جب محکوم آزاد ہو تو وہ حاکم قوم سے ترقی یافتہ ہو جائے۔“ غیر علاقوں کو حاصل کر کے ان پر حکومت کرنے کی خواہش مٹانے کے لئے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وو وہ فضل جو ہم نے دوسری قوموں پر ان کو آزمانے کیلئے کیا ہے اس کا حسد نہ کرو۔جو کچھ تمہارے خدا نے تمہیں دیا ہے وہی تمہارے لئے بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔“ اس آیت میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ ایک قوم دوسری قوم پر صرف اس وجہ سے کہ وہ خوش حال ہے غالب آنے کی کوشش نہ کرے اور ایک ملک محض اس پر حکومت کرنے اور وہاں سے مال و دولت جمع کرنے کیلئے غلام نہ بنایا جائے۔اس کے برعکس ہر قوم کو غور کرنا چاہئے کہ اس کیلئے کون سی چیز بہتر ہے۔کسی قوم کو علاقہ حاصل کرنے کیلئے جنگ نہ چھیڑنی چاہئے اور کسی قوم یا ملک کے اندورنی انتظامات میں دخل اندازی نہ کرنی چاہئے۔الغرض اسلام کا مقصد تمام دنیا میں ایک مرکزی حکومت قائم کرنا ہے تا بین الاقوامی اختلافات اور جنگوں کے تمام اسباب مٹا دئے جائیں۔ہر ملک اپنی قومی خواہشات کو پورا کرنے میں آزاد ہوگا اور مقامی معاملات میں اسے کامل خود مختاری ہوگی اور پھر بھی گل کا محض ایک حصہ ہوگا لیکن اسلام اس مقصد کو را کرنے کیلئے بھی جنگ کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس سوال کو محض اقوام اور ممالک کی مرضی پر چھوڑ دیتا ہے۔پس اسلام کی تعلیم کے مطابق انسانوں کی مختلف قبائل میں تقسیم اس غرض کیلئے نہ کی گئی تھی کہ وہ ایک دوسرے پر حکومت کریں بلکہ اس لئے کی گئی کہ آپس میں دوستیاں پیدا کر کے ایک دوسرے کی بھلائی اور بہتری چاہیں اور باہمی تجارتی تعلقات قائم کر کے ایک دوسرے کے اوصاف اور خوبیوں سے فائدہ اٹھا ئیں۔اس تعلیم کے رائج ہونے سے امن عالم خود بخود قائم ہو جاتا ہے۔اسلام کا نظریہ اقوام متحدہ بین الاقوامی جھگڑوں کے انفصال کیلئے اسلام جمعیت الاقوام جیسی ایک بین الاقوامی مجلس قائم کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے جس کی بنیاد اس اصول پر ہو کہ جب کسی دو قوموں میں جھگڑے کے آثار ظاہر ہوں، دیگر قومیں ان میں سے ایک یا دوسری کی حمایت کرنے کی بجائے فوراً ان دولڑنے والی قوموں کو نوٹس دیں کہ اپنا جھگڑا ہمارے سامنے پیش کرو اور اگر ان میں سے کوئی اس معاملہ کو مجلس اقوام کے سامنے