حیات شمس — Page 361
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 345 امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ جو چیز قرآن مجید نے پیش کی ہے وہی درست اور صحیح ہے اور دنیا میں امن اسی طرح قائم ہو سکتا ہے کہ قرآن کے بتائے ہوئے اصول پر ایک جمعیت الاقوام بنائی جائے۔بالآخر میں علی الاعلان بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام جو امن کا مذہب ہے، اسی کی تعلیمات پر چلنے سے دنیا کے باشندوں کو بہتر اور خوشحال زندگی نصیب ہو سکتی ہے۔آؤ ہم سب مل کر دعا کریں کہ خدا ہمیں امن عطا کرے۔ریویو آف ریلیجنز اردو،اگست 1939 ء صفحہ 41-51) ٹائمنر آف لنڈن میں مسجد کا ذکر برطانیہ کی کامیابی کیلئے مئی اور ستمبر کی معینہ تاریخوں کو بھی دعا مانگی تھی جس کا ٹائمنر آف لنڈن نے خاص طور پر ذکر کیا۔پہلی دفعہ سپیشل آرٹیکل میں دوسروں کے ساتھ ہماری مسجد کا بھی ذکر کیا اور دوسری دفعہ خبروں میں جلی عنوان دے کر خبر شائع کی۔اخبار الفضل اور سن رائز سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی وصیت کے متعلق علم ہو ا جو دوست اتوار کے روز آئے انہیں سنائی گئی۔دعا اور صدقہ کیلئے تحریک کی گئی۔جب تحریک کی تو مسٹر عثمان سٹن اسی روز اپنی طرف سے اور اپنے لڑکے منیر احمد سٹن کی طرف سے چھ شلنگ دے گئے۔نیز کہا کہ جب کوئی ایسی مالی بات ہو تو مجھے ضرور بتایا کریں۔عزیزم سید ممتاز احمد صاحب نے دو پونڈ دیئے ان کے علاوہ مسٹر خالد ڈکنسن اور ڈاکٹر عبدالخالق خان صاحب نیازی پسر مولوی غلام حسن خان صاحب پشاوری اور مسٹر حسن نوریہ از ماریشس۔میر عبد السلام صاحب اور عبدالعزیز اور خاکسار نے حصہ لیا۔جو دوست حاضر نہ تھے یا ٹیلیفون پر نہ تھے انہیں اطلاع نہ دی جاسکی۔ساڑھے چار پونڈ کی رقم صدقہ کیلئے جمع ہوئی جس کے متعلق ناظر صاحب تبلیغ کی خدمت میں لکھا گیا تا کہ اس رقم کے بکرے خرید کر جماعت احمد یہ انگلستان کی طرف سے بطور صدقہ ذبح کر دیئے جائیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی درازی عمر کیلئے دعا کی جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ اس نشان رحمت کے سایہ کو ہمارے سروں پر تا بدیر قائم رکھے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے تا ان ترقیات کا جو حضور کی ذات سے وابستہ ہیں وقت جلد آئے۔آمین۔ایک احمدی طیار کی آمد میاں محمد شریف صاحب ڈی۔اے سی کے صاحبزادہ میاں محمد لطیف صاحب اکتوبر کو بخیر و عافیت