حیات شمس — Page 358
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 342 بڑے غیر پیدا آور قومی قرضے نہیں ہو سکتے اور ایسے قرضوں کے بغیر بر بادگن لڑائیاں ناممکن ہیں۔10۔ایک اور وجہ جس سے مختلف قوموں کے مابین جنگ و جدل ہوسکتا ہے یہ ہے کہ ایک قوم اپنے تئیں دوسری قوم سے افضل سمجھتی ہے اور اس طرح دنیا میں نفرت اور دشمنی پیدا کرتی ہے جس کا نتیجہ اکثر اوقات خونریزی ہوتا ہے۔اسلام نے قوموں کے فرق کو مٹا دیا ہے اور تمام بنی نوع انسان کو ایک ہی درجہ میں رکھ دیا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوْبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ (الحجرات : 14) ”اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تم کو قوموں اور قبیلوں میں اس لئے تقسیم کیا ہے تا ئم ایک دوسرے کو پہچان سکو تم میں سے سب سے معزز وہ ہے جو متقی اور پر ہیز گار ہو۔“ قومی برتری کے تنگ اور غلط خیال کو مٹانے کیلئے بانی اسلام ﷺ فرماتے ہیں: ایک عربی کو غیر عربی سے اپنے آپ کو برتر سمجھنے کا کوئی حق نہیں اور نہ ایک عجمی اپنے آپ کو ایک صلى الله عربی سے بہتر تصور کر سکتا ہے۔تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیا گیا تھا۔اسی طرح اسلام نے سکھلایا ہے کہ تمام انسان خواہ وہ مشرقی ہوں یا مغربی ہوں ایک ہی باپ کی اولاد ہیں اور ایک ہی خدا کے خادم ہیں۔مسلمانوں کی نماز ، روزہ اور مکہ کا حج بھی مختلف اقوام میں جن کی مختلف زبانیں اور مختلف ممالک ہوں، برابری کا ایک عجیب مظاہرہ ہیں اور روزہ کی تکالیف ،بھوک اور پیاس وغیرہ امراء بھی غرباء کی طرح برداشت کرتے ہیں اور اس طرح جب وہ خود تجربہ کر لیتے ہیں کہ ان کے غریب بھائی کس مصیبت میں زندگی گزارتے ہیں تو امراء اپنے اموال سے غرباء کی امداد کو تیار ہو جاتے ہیں۔اسی طرح حج میں امیر اور غریب ایک ہی قسم کا لباس پہنتے ہیں۔الغرض اسلامی عبادات کے ہر شعبہ میں برابری اور عالمگیری بھائی چارہ کا ایک سبق پنہاں ہے۔جنگ کے اصل اسباب نو آبادیات اور علاقوں کا لالچ وحرص اور قوموں کی دولت کے علاوہ اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ مہذب سمجھ کر ان پر حکومت کرنے کا اہل ہونے کا دعویٰ کرنا ہے۔جب تک یہ خیالات دور نہ ہوں، تب تک جنگ کے امکانات دور نہیں ہو سکتے۔اسلام اس کے متعلق واضح طور پر فرماتا ہے کہ : ایک ایسی قوم جو دوسری قوموں سے زیادہ مہذب ہو اس کا ہر گز حق نہیں کہ دوسری قوموں کو