حیات شمس

by Other Authors

Page 357 of 748

حیات شمس — Page 357

حیات ٹس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 341 اس بارہ میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ خوشی اور دل کا اطمینان سچے اور کامل مذہب کو اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کئے بغیر میسر نہیں آسکتا۔8۔مزدور اور آقا کی لڑائیوں کے اسباب دور کرنے اور مالک اور مملوک کے درمیان صلح کرانے کیلئے نبی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے خدمتگار تمہارے بھائی ہیں خدا نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے۔سوجس کے ماتحت کوئی اس کا بھائی ہے اسے چاہئے کہ اپنے کھانے میں سے اسے کھانا کھلائے اور اپنے کپڑوں میں سے اسے کپڑا دے اور اسے کرنے کیلئے اتنا یا ایسا کام نہ دے کہ وہ نہ کر سکے اور اگر دینا ہی پڑے تو پھر اس کی مدد کرے۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو نوکروں چاکروں کو اور نہ رعایا کو کسی لحاظ سے اپنے سے کمتر سمجھنا چاہئے۔ہم سب عورت مرد بہن بھائی ہیں یہ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت وہ ہمارے ہم پلہ ہو جائیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان سے بھائیوں کا سا سلوک کرو۔یہ اسلام کا ضابطہ ہے۔اگر مزدوروں سے کام لینے والے اس کو اختیار کر لیں تو دنیا کے اقتصادی اور مجلسی جھگڑے یک قلم نیست و نابود ہوجائیں۔9۔اسلام نے سرمایہ داری اور مزدوری کی مشکل کا بھی ایک حل بتایا ہے۔یہ لوگوں کو جائز ذرائع سے اپنی ضرورت سے زائد روپیہ کمانے سے نہیں روکتا لیکن اس کے ساتھ ہی ان امراء پر فرض قرار دیا ہے کہ اپنی دولت کا چالیسواں حصہ بطور خیرات اسلامی بیت المال میں جمع کریں جسے حکومت غریبوں، مسکینوں اور قیموں پر خرچ کرے۔علاوہ ازیں اسلام دولت مندوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ لوگوں کی مذہبی ، تمدنی اور تعلیمی ضروریات پر بکثرت روپیہ خرچ کریں۔دوسرا اصول جو اسلام نے لوگوں میں دولت کی تقسیم کا بیان کیا ہے وہ وراثت کا قانون ہے۔اس کے ماتحت جب ایک آدمی مرجاتا ہے تو اسکا ورثہ اس کی اولاد اور دیگر رشتہ داروں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔مرنے والے کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اس سے ان کو محروم کر دے اور نہ اسے اپنی جائیداد کے تیسرے حصہ سے زیادہ وصیت کرنے کا اختیار ہے۔پھر سرمایہ داری اور مزدوری کی مشکل حل کرنے کیلئے اسلام نے سود کو بھی حرام قرار دیا ہے اور اس طرح اسلام افزائش اسلحہ کی دوڑ کو بالواسطہ روکتا اور تباہ کن جنگوں کا خاتمہ کرتا ہے۔سود کے بغیر بڑے