حیات شمس

by Other Authors

Page 356 of 748

حیات شمس — Page 356

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس وو 340 مت بحث کر واہل کتاب سے بجز اس طریق کے جو سب سے بہتر ہو۔“ [ عنکبوت :47] یعنی تم اپنی تعلیمات کی خوبصورتی اور ان کا اعلیٰ ہونا ثابت کرو، وبس۔اور سننے والوں کے متعلق فرماتا ہے۔” میرے ان بندوں کو خوشخبری دو جو بات کو سنتے ہیں پھر اس میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن کی اللہ نے راہنمائی کی ہے اور جو عاقل اور دانا ہیں۔[الزمر: 19] اگر مختلف مذاہب کے لوگ مندرجہ بالا طرز عمل کو اختیار کرلیں اور ایک دوسرے کے خیالات کو سنجیدگی سے سنا کریں تو امید کی جاسکتی ہے کہ کسی نہ کسی دن سب کا مذہب ایک ہی ہو جائے گا۔7۔اس ضمن میں یہ بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ انجیل میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ مسیح علیہ السلام کی دوسری آمد کے وقت جنگیں ہوں گی اور قوم پر قوم چڑھائی کرے گی۔اسی طرح قرآن مجید میں بھی پیشگوئی پائی جاتی ہے۔جس میں زمانہ حال کے دخانی اور ہوائی جہازوں کا ذکر ہے کہ اگر لوگ خدا کی طرف رجوع کر کے اس کا فضل حاصل نہ کر لیں گے تو ان پر آگ اور دھوئیں کا شعلہ پھینکا جائے گا اور وہ اپنے تئیں بچانہ سکیں گے۔جماعت احمدیہ کے مقدس بانی علیہ الصلوۃ والسلام ( جن کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا تھا اور جن کے وجود میں وہ پیشگوئیاں پوری ہوئیں جو مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے متعلق تھیں ) مندرجہ ذیل الفاظ میں لوگوں کو آنے والے خطرہ سے 1907ء میں آگاہ کیا تھا: وو ” اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں۔اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔وہ واحد یگانہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکروہ کام کئے گئے اور وہ چپ رہا مگر اب وہ ہیبت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا۔جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے۔مگر خدا غضب میں دھیما ہے۔تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی۔اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ “ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 ، صفحہ 269)