حیات شمس — Page 344
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 328 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔مسیح بادشاہ نہ تھے وہ بادشاہوں کیلئے نمونہ نہیں ہو سکتے نہ وہ سپاہی نہ فوجوں کے جرنیل ہوئے نہ قاضی اور جج بنے۔نہ ہی وہ شادی شدہ تھے نہ وہ کسی کے ماں باپ ہوئے۔پس ایسے تمام لوگوں کیلئے وہ کامل نہیں ہو سکتے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یتیم بھی ہوئے، فقیر بھی رہے، بادشاہ بھی ہوئے ، سپاہی ، جرنیل اور باپ بھی ہوئے۔ایک مدت تک آپ نے ایک ہی بیوی رکھی۔پھر زیادہ بیویاں بھی کیں۔قاضی اور حج بھی بنے۔پس آپ ہی ایک ایسے نبی تھے جنہوں نے تمام دنیا کیلئے ایک کامل نمونہ چھوڑا۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہ نادر موقع عطا فرما کر سینکڑوں انگریزوں کو اسلام کے متعلق صحیح معلومات بہم پہنچانے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کا مژدہ سنانے کی توفیق عطا فرمائی۔کتب کے سیٹ 1937ء میں میری تحریک پر بہت سے احباب نے تبلیغی کتب کے سیٹ ارسال کئے تھے۔کچھ تو گذشتہ سال لوگوں کو دیئے گئے جو باقی تھے وہ اب ہر مدرسہ کی لائبریری کیلئے بطور ہدیہ دیئے گئے ہیں جو انشاء اللہ تعالی مستقل تبلیغ کا کام دیں گے اور ان دوستوں کیلئے جنہوں نے وہ سیٹ بھیجے تھے دائی ثواب کا موجب ہوں گے۔چونکہ ان سکولوں میں اکثر ملازم پیشہ مرد اور عورتیں ہیں اور ان کے دلوں میں مذاہب کے متعلق واقفیت حاصل کرنے کی قدرے خواہش بھی ہے اس وقت درحقیقت وہ کسی خاص مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب نہیں کرتے اس لئے امید ہے کہ وہ ان کتب کا ضرور مطالعہ کریں گے اور ان سے مستفید ہوں گے۔ان کتابوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” ٹیچنگ آف اسلام“ اور مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم (کشتی نوح)، حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی تالیفات میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح عمری ہیں نیز قرآن مجید کا پہلا پارہ بھی دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں قبر مسیح والا پانچ ہزار اشتہار بھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کا ذکر ہے ،لندن اور اس کے نواح میں تقسیم کیا جا چکا ہے۔اس عرصہ میں تین اشخاص بیعت فارم پر کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ایک مسٹر ٹامس بانڈ ہیں جو برائٹن میں رہتے ہیں۔دوسرے میں ڈکنسن جو انگٹن میں رہتی ہیں اور مسٹر براؤن نے جو کرائیڈن میں رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطا فرمائے۔آمین۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستہ پر ثابت قدم