حیات شمس

by Other Authors

Page 345 of 748

حیات شمس — Page 345

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 329 رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور سلسلہ کا سچا خادم بنائے اور ہمیں توفیق بخشے کہ ہم لنڈن کے ہر محلہ اور ہر مکان میں خدا تعالیٰ کے بچے مسیح کی آواز پہنچا سکیں۔ہمارا فرض صرف پہنچانا ہے خواہ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔اگر چہ ہمارا ایمان ہے کہ پیشگوئیوں کے مطابق بہت سے لوگ اسلام کو قبول کریں گے لیکن یہ امر کہ ایسا کب وقوع پذیر ہوگا اور کیونکر ہوگا اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔جب ہم اپنا فرض تبلیغ کا ادا کر دیں گے تب خدا تعالیٰ کا غیبی ہاتھ اپنی قدرت کا کرشمہ دکھائے گا اور اپنے وعدوں کے مطابق مغرب میں ایک ایسا انقلاب پیدا کرے گا جو اس وقت بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔الم تعلم ان الله على كل شيئي قدير و فعال لما يريد۔(الفضل قادیان 11 اپریل 1939ء) انٹر نیشنل فرینڈ شپ لیگ میں لیکچر ( مولانا جلال الدین صاحب شمس ) انٹرنیشنل فرینڈ شپ لیگ کی ویمبلے شاخ میں میں نے قرآن اور بائیبل کے موضوع پر ایک پر چہ پڑھا جس میں بتایا کہ قرآن مجید کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ تمام گزشتہ تعلیموں کی خوبیوں کا اقرار کرتا ہے پھر معقولیت اور دلیل و برہان کے ساتھ اپنی اہمیت کو پیش کرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدى وَنُوْرٌ (المائده : 45)۔یعنی ہم نے تو رات کو اتارا تھا جس میں ہدایت اور نور تھا۔پھر فرمایا کہ ہم نے ان کے پیچھے عیسی ابن مریم کو بھیجا جو تورات کی پیشگوئیوں کے مطابق آیا۔وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدى وَنُورٌ وَمُصَدِّقاً لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ (المائدہ: 47) اور ہم نے اس کو انجیل دی۔اس میں بھی ہدایت اور نور تھا اور وہ بھی ان باتوں کی جو اس سے پہلے تورات میں موجود تھی تصدیق کرنے والی تھیں۔پھر فرماتا ہے۔وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِناً عَلَيْهِ (المائده: 49) یعنی ہم نے اس کامل کتاب یعنی قرآن مجید کو بھی ضرورت حقہ کے وقت اتارا ہے اور اس سے پہلے جو کتاب موجود تھی اس میں مذکورہ پیشگوئیوں کے مطابق یہ کتاب نازل ہوئی ہے اور تمام تعالیم حقہ کی جو اس سے پہلے موجود تھیں ان کی یہ کتاب محافظ ہے اور کوئی عمدہ تعلیم اس سے باہر نہیں رہ گئی۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کا یہود سے یہ خطاب کہ اگر تمہارا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان ہوتا تو تم مجھ پر بھی ایمان لاتے کیونکہ اس نے میرے متعلق پیش گوئی کی تھی درست اور معقول تھا۔اسی طرح ہر عیسائی اور یہودی کو جو حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح پر