حیات شمس — Page 343
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 327 ہر جگہ لیکچر کے بعد سوالات کا موقعہ دیا جاتا اور حاضرین مختلف سوالات کرتے۔میرے ساتھ اکثر مقامات میں مسٹر بلال مثل بھی گئے جو بعض سوالات کا جواب بھی دیتے۔ان کے کورس میں اسلام کے متعلق جو سبق درج تھا اس میں اسلام کے متعلق بعض غلط بیانیاں تھیں وہ بھی میں نے ان پر واضح کیں۔مثلاً اس میں لکھا تھا کہ مسلمان خدا کیلئے (Love) محبت کے لفظ کو استعمال کرنا تقریباً کفر خیال کرتے ہیں۔میں نے کہا قرآن مجید کی کئی آیتوں میں یہ لفظ خدا کے حق میں استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے رسول تو کہہ دے کہ اگر تم خدا کے سچے عاشق اور محبت ہو تو تم میری پیروی کرو۔خدا تم سے محبت کرے گا۔اسی طرح فرمایا کہ مرتدین کے بدلہ خدا تعالیٰ ایسی قوم لائے گا جو خدا سے محبت رکھیں گے اور وہ ان سے محبت کرے گا۔اسی طرح دوسری غلطیوں کو واضح کیا۔ایک سکول میں وہ عورت بھی حاضر تھی جس نے وہ سبق لکھا تھا چنانچہ پریذیڈنٹ نے کہا کہ آج کے لیکچر کا ایک فائدہ تو یہ بھی ہوا ہے کہ سبق لکھنے والی کو بھی اپنی غلطیوں کا علم ہو گیا ہے۔ایک سکول میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایک شخص نے کہا کہ مسیح نے تو تمام دنیا کا بادشاہ ہونا تھا۔میں نے کہا یہود بھی یہی خیال کرتے تھے مگر مسیح فقیرانہ حالت میں آئے اور انہوں نے کہا کہ میری بادشاہت روحانی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام کو تمام دنیا کیلئے روحانی بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔اس نے کہا میں یہ بات تو نہیں مان سکتا۔میں نے کہا یہود نے بھی اسی طرح پہلے مسیح کو جس کے ماننے کے تم مدعی ہو نہیں مانا تھا۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ آنے والا صیح آچکا ہے اب کوئی اور مسیح نہیں آئے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب کیلئے کامل نمونہ ایک اور سکول میں ایک شخص نے کہا کہ کیا اچھا ہو کہ مسلمان اور عیسائی ایک ہو جائیں۔میں نے کہا یہ تو آپ لوگوں پر موقوف ہے۔ہم مسلمان تو تمام انبیاء کو مانتے ہیں حضرت عیسی کو بھی خدا کا راستباز نبی مانتے ہیں لیکن آپ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی نہیں مانتے۔اگر آپ ایک قدم ہماری طرف بڑھائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مان لیں تو پھر ہم ایک ہو جاتے ہیں۔ایک اور سکول میں ایک شخص نے کہا کہ اگرمحمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بچے نبی بھی ہوں تو بھی صحیح ان سے بہر حال بڑھ کر تھے۔وہ خدا ہو کر دنیا کیلئے کامل نمونہ تھے۔میں نے کہا اگر وہ خدا تھے تو وہ انسانوں کیلئے نمونہ نہیں ہو سکتے کیونکہ انسان اور خدا کی طاقتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔وہ محض بنی اسرائیل کی اصلاح کیلئے آئے۔دنیا کیلئے کامل نمونہ