حیات شمس

by Other Authors

Page 297 of 748

حیات شمس — Page 297

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس ہستی ہے۔فری تھنکر : اشیاء عالم میں کوئی ترتیب نہیں پائی جاتی۔281 شمس آپ پہلے میری دلیل غور سے سن لیں ابھی میں آپ کو ترتیب کا بھی ثبوت دیتا ہوں۔مثال کے طور پر آپ انسان کو لے لیں۔اس میں سننے چکھنے ، دیکھنے وغیرہ کی قوتیں پائی جاتی ہیں ان کو مد نظر رکھ کر اگر عالم کی چیزوں پر غور کیا جائے تو صاف طور پر معلوم ہو جائے گا کہ انسان اور باقی تمام اشیاء کا خالق ایک ہی ہے اور وہ ذی ارادہ ہستی ہے۔انسان کو آنکھ دی لیکن آنکھ کام نہیں دے سکتی تھی جب تک کہ سورج اس قدر فاصلہ پر نہ ہوتا جس قدر فاصلہ پر اب ہے۔اسی طرح انسان غذا کا محتاج ہے اور غذا اسورج کی تاثیرات سے تیار ہوتی ہے۔اس کی تاثیرات بھی زمین پر ایک قانون کے ماتحت پڑتی ہیں۔اسی طرح قوت ذائقہ دی تو اس کیلئے میٹھی نمکین چیزیں بھی پیدا کر دیں۔قوت شنوائی دی تو اس کیلئے ہوا بھی پیدا کر دی اگر ہوا نہ ہوتی تو انسان سن نہ سکتا۔اسی طرح بیماریاں ہیں تو ان کے علاج بھی صحیفہ عالم میں پائے جاتے ہیں غرضیکہ انسان کی تمام ضروریات کو پورا کیا گیا ہے اور ان تمام چیزوں میں ایک نظام اور ترتیب پائی جاتی ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ ان اشیاء کی خالق ایک ذی ارادہ ہستی ہے۔فری تھنکر : یہ تمام چیزیں Nature سے پیدا ہوئی ہیں۔شمس: Nature کوئی ذی ارادہ چیز نہیں ہے ترتیب اور نظام اور قانون ایک ذی ارادہ ہستی کو چاہتے ہیں۔مثلاً اگر ہم کسی کاغذ پر تین سطریں نہایت خوشخط لکھی ہوئی دیکھیں تو ہم کبھی یہ نہیں کہیں گے کہ یہ خود بخود بغیر ارادہ کے لکھی گئی ہیں بلکہ ہمیں ماننا پڑے گا کہ یہ سطور بالا رادہ کبھی گئی ہیں۔اسی طرح اشیاء عالم میں جو نظام اور ترتیب پائی جاتی ہے وہ ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ اس تمام عالم کی خالق ایک ذی ارادہ ہستی ہے اور وہی خدا ہے۔اس دلیل کافری تھنکر کوئی جواب نہ دے سکا۔۔۔۔الفضل قادیان 21 اکتوبر 1936ء)