حیات شمس

by Other Authors

Page 288 of 748

حیات شمس — Page 288

حیات ٹس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 272 کہ اگر وہ مسیح کی الوہیت کو ماننے سے باز نہیں آئیں گے تو انہیں درد ناک عذاب دیا جائے گا اور ان کا ٹھکانا جہنم بتایا ہے نیز یہ کہا کہ مسیح صلیب پر نہیں مرے۔اسی طرح یہود کو سخت تنبیہ کی ہے اور یہی دو قو میں مسیح سے تعلق رکھتی تھیں اور دونوں کے خلاف قرآن نے آواز بلند کی اور دوسرے کو منوانے کیلئے عقلاً کیا یہ مفید ہوسکتا تھا کہ مسیح کو بے باپ مانا جائے یا کہ باباپ۔ہر عقلمند شخص یہی جواب دے گا کہ عام لوگوں کو منوانے کیلئے آسان راہ یہی تھی کہ مسیح کا باپ مانا جائے لیکن باوجود اس کے اسے بے باپ ظاہر کر دیا گیا اس لئے کہ اصل واقعہ یہی تھا۔دہریہ: اب تو سمجھدار بشپ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس کا باپ تھا۔شمس وہ جو چاہیں کہیں لیکن ہمیں قرآن کریم کی صداقت پر یقین ہے اور جو کچھ اس میں لکھا ہے وہی درست ہے۔قرآن مجید نے آج سے چودہ سو سال قبل بعض ایسی باتیں بیان کیں جن کی حقیقت آج سالہا سال کی تحقیقات کے بعد اب سائنسدانوں کو معلوم ہوئی۔مثلاً یہ کہ قرآن مجید نے اعلان کیا کہ۔وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ (الذاریات :50) ہم نے ہر ایک چیز کو زوج بنایا ہے نباتات ہو یا حیوانات ،غرضیکہ ہر چیز اپنے اندر زوجیت رکھتی ہے۔آج سائنسدان اسے تسلیم کرتے ہوئے پہلے فلاسفروں کی تحقیقات کی تضحیک کر رہے ہیں اسی طرح آئندہ زمانہ میں اگر بلا باپ ولادت کا امکان ثابت ہو گیا تو آج جو لوگ اس کا انکار کر رہے ہیں آنیوالے ان پر ہنیں گے یا نہیں۔آپ بتائیں کہ آیا تحقیقات مکمل ہو چکی ہے اور آئندہ کوئی امکان باقی نہیں رہا۔[ جیسا کہ تازہ تحقیقات سے یہ بات ثابت کی جاچکی ہے کہ بن باپ ولادت ممکن ہے۔اس پر کئی کتب ، آرٹیکلز اور ریسرچ پیپر بھی شائع ہو چکے ہیں۔مرتب] دہریہ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ کیلئے تحقیقات کا دروازہ بند ہوگیا لیکن عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ خدا مریم کے پیٹ میں بچہ کا جسم اختیار کر کے پیدا ہوا کیونکر درست ہوسکتا ہے۔شمس ہم عیسائیوں کے اس عقیدہ سے متفق نہیں ہیں۔حضرت مسیح Natural طریق پر پیدا ہوا اور ایک انسان تھا اور اس کیلئے یہ ضروری نہیں کہ ہمیں معلوم ہو کہ بغیر باپ کے کیونکر پیدا ہوسکتا ہے۔جیسا کہ ابتدائی انسانوں کی پیدائش کی صحیح کیفیت معلوم نہیں ہوسکی ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ابتدائی انسان بہر حال ماں باپ سے پیدا نہیں ہو ا تھا۔(الفضل قادیان 30 جون 1936ء)