حیات شمس — Page 287
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 271 عزیز الدین صاحب مرحوم نے دیئے۔لیکچروں سے پہلے شیخ احمد اللہ صاحب قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہے حاضری اچھی تھی۔لیکچر شروع کرنے سے پہلے کسی نہ کسی پادری صاحب سے گفتگو کی جاتی ہے چنانچہ اس دفعہ ایک پادری سے جو انجیل سے خوب واقف تھا اس موضوع پر کہ مسیح کی بعثت صرف بنی اسرائیل کیلئے تھی یا تمام دنیا کیلئے۔سامعین میں ایک میری تائید کرتا تھا لیکن پادری صاحب اس کی گفتگو سے بہت برا مانتے تھے۔آخر اس دہریہ نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آپ مسیح کو بلا باپ کے مانتے ہیں۔میں نے جواب دیا بلا باپ کے۔دہریہ کوئی شخص بلا باپ کے پیدا نہیں ہوسکتا ہے۔سٹس ڈاکٹروں نے اپنی تحقیقات کی رو سے اس مسئلہ کوممکن بتایا ہے۔نیز مختلف اقوام میں بغیر باپ کے پیدائش کی روایات پائی جاتی ہیں۔دہریہ : یہ روایات محض کہانیوں میں پائی جاتی ہیں قابل اعتبار نہیں ہیں۔ڈاکٹروں نے کیٹروں کی پیدائش کو تو بلا باپ کے مانا ہے لیکن انسانوں میں انہوں نے تسلیم نہیں کیا البتہ ایسے واقعات مشاہدہ میں آئے ہیں کہ مرد عورت یا عورت مرد بن گئی ہو۔شمس متعد داقوام کی متفقہ روایات کو یونہی رد کرنا بھی درست نہیں۔پھر موجودہ ڈاکٹروں نے بھی اس امر کا قطعا دعویٰ نہیں کیا کہ ان کی تحقیق مکمل ہو چکی ہیں اور اب کوئی بات قابل تحقیق نہیں رہی تحقیقات ابھی تک جاری ہیں۔ہو سکتا ہے کہ ایسی تحقیقات سے جیسے یہ معلوم ہو گیا کہ مرد عورت بن سکتا ہے یا عورت مرد بن سکتی ہے اسی طرح کسی وقت انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ عورت سے بغیر مرد کے بچہ بھی ہوسکتا ہے۔دہریہ آج تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ مرد کے بغیر بھی بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔شمس ایسے واقعات تو ہوئے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو تو اسے ظاہر نہیں کیا جاتا کیونکہ ایسی عورت کے متعلق بر اخیال کر لیا جاتا ہے اس لئے اگر کبھی ایسا واقعہ ہوا ابھی تو اس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ہم نے جو حضرت مسیح کو بغیر باپ مانا ہے تو وہ قرآن مجید کی رو سے جو ہمارے نزدیک خدا کا کلام ہے۔دہریہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے عیسائیوں کو قریب کرنے کے لئے مسیح کی Virgin Birth کو تسلیم کر لیا۔شمس آپ کا یہ نظریہ درست نہیں ہے قرآن مجید میں عیسائیوں کو کافر اور گمراہ قرار دیا گیا ہے اور کہا ہے