حیات شمس — Page 289
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ایک تبلیغی جلسہ 273 ( حضرت مولانا جلال الدین شمس) 27 جون 1936ء کو احمد یہ دار التبلیغ میں Folklore Club کے چالیس ممبر تشریف لائے۔چونکہ اس وقت ہم نماز پڑھ رہے تھے اس لئے وہ بھی جوتے اتار کر مسجد میں بیٹھ گئے۔نماز کے بعد مولانا درد صاحب نے ان سے نماز کی حکمت اور فضلیت بیان کی اور پھر مسجد کے متعلق ان کے بعض سوالات کے جوابات دیئے اس کے بعد باغ میں آئے جہاں جلسہ کی کارروائی خاکسار نے تلاوت سے شروع کی اور درد صاحب نے اصول اسلام پر برمحل تقریر کی جس میں انبیاء کی توحید اور بعثت کا ذکر کیا اور بتایا کہ خدا تعالیٰ اب بھی اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح وہ پہلے زمانوں میں کرتا تھا۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو ہندوستان میں مبعوث کیا اور اس سے باتیں کیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ امن کا شہزادہ وہی ہے اور اسی کے بتائے ہوئے اصول اختیار کرنے سے دنیا میں امن ہوسکتا ہے۔۔۔چونکہ در دصاحب نے اپنے لیکچر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی بیان کیا تھا کہ ان کا فوٹوز بیٹنگ روم میں موجود ہے جو دیکھنا چاہیں دیکھ سکتے ہیں چنانچہ سب ممبروں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے فو ٹو دیکھے اور میں نے مختصر انہیں حالات بھی بتائے اور سات کتابیں انہوں نے قیمتاً خریدیں۔ایک مذہبی کانگریس میں احمدیت کا ذکر الفضل قادیان 22 جولائی 1936ء) ( حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) Wolrd Fellowship of Faiths کے قیام کی اصل غرض مختلف مذاہب کے درمیان رشتہ اخوت و محبت اور امن کا قائم کرنا ہے۔اس سوسائٹی کی پہلی کانگریس شکاگو اور نیو یارک میں 1933ء 19349ء کو ہوئی تھی جس میں مختلف مذاہب کے 199 نمائندے شریک ہوئے۔اس کی تیسری کانگرس 1938ء میں ہندوستان اور 1939ء میں نیو یارک اور 1942ء میں جاپان منعقد ہوگی اور دوسری کانگرس جولائی 1936ء کولنڈن میں ہوئی ہے۔اس کے اجلاس یکم جولائی سے لے کر 17 جولائی تک ہوئے ہیں۔ہر روز صبح پہلے ایک مذہب کا نمائندہ دعا کرتا جس میں دوسرے بھی شریک ہوتے پھر لیکچر ہاں